اننت ناگ میں آنگن واڑی ورکروں کا احتجاج

تنخواہوں کی واگذار ی، این آر ایچ ایم آڈر کی واپسی اور اور پنشن سکیم کے نفاذ کے مطالبہ

سرینگر//آنگن واڑی ورکروں اور ہیلپروں نے منگلموار کو حکومت کے خلاف این آر ایچ ایم آڈر کی واپسی اور گزشتہ آٹھ مہینوں سے اپنی ماہانہ تنخواہوں کی واگذاری کے خلاف احتجاج کیا۔اننت ناگ کے سپورٹس سٹیڈیم میں متعددورکر اور ہیلپر جمع ہوئے اور محکمہ کے ساتھ ساتھ حکومت کے خلاف نعرے بازی کی۔مظاہرین حکام سے مطالبہ کر رہے تھے کہ گورنر انتظامیہ نے کچھ دن پہلے این آر ایچ ایم آڑر نکالا اس کو فوری طور پر رد کیا جانے اور ہمیں پچھلے آٹھ مہینوں کی ماہانہ تنخواہوںیہ واگذار کیا جائے، حتمی سنیارٹی فہرستوں کا تعین کیا جائے اور ورکروں اور ہیلپروں کیلئے نئی پنشن سکیم کا نفاذ عمل میں لایا جائے۔مظاہرین میں فہمیدہ نامی ایک ورکرنے سی این آئی نمائندے امان ملک کو بتایا کہ حکومت اپنے ہزاروں کارکنوں کے ساتھ کئے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ہم گزشتہ کئی سالوں سے اپنے مطالبات کیلئے دباؤ ڈال رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے حکومت ہمارے مطالبات پر توجہ نہیں دے رہی ہے۔ اس طرح ہمارے خاندانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کو جلد از جلد ان کی پچھلیاٹھ مہنںوں ماہانہ تنخواہوںیہ واگذار کی جایے تاکہ انہیں راحت کی سانس مل سکے۔انہوں نے مزید کہا’’ہمیں حقیقی مطالبات کے لیے سڑکوں پر نکلنے پر مجبور کیا جا رہا ہے‘‘۔مظاہرین میں شامل ایک اور ورکر نے کہا ’’ حکام کو ہماری ماہانہ تنخواہوں میں بہت پہلے اضافہ کر دینا چاہیے تھا لیکن انہوں نے ہمیں مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے چھوڑ دیا‘‘۔انہوں نے کہا کہ حکومت آنگن واڑی کارکنوں اور ہیلپروں سے متعلق مسائل کو دیکھنے میں بری طرح ناکام رہی ہے، جو کہ معمولی رقم پر محکمہ کی خدمت کر رہے ہیں۔احتجاجی ورکروں اور ہیلپروں نے ایل جی اور متعلقہ حکام سے اپیل کی کہ وہ ان کے دیرینہ اور حقیقی مطالبات کو پورا کریں۔