جنوری2022 سے31 دسمبر 20022 تک 8 کرروڑ سے 42 لاکھ
زائدجرمانہ وصول ، 2 لاکھ 95 ہزار سے زائد چالان، 5 ہزار 6 سو سے زائد گاڈیاں ضبط
سرینگر//ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے کی پاداش میں محکمہ ٹریفک رولر کشمیر نے جنوری 2022 سے 31 دسمبر 2022 تک قصور واروں سے 8کروڑ 42 لاکھ 62 ہزار سے زائد رقم بطور جرمانہ وصول کرلی ہے جبکہ اس مدت میں 2 لاکھ 95 ہزار سے زائد چالا ن کئے گئے ہیں۔ اس دوران محکمہ نے لوگوں پر زور دیا ہے کہ وہ نابالغ بچوں کو گاڑیاں اور موٹر سائکل ، سکوٹی چلانے کی اجازت نہ دیں کیوں کہ چھوٹے عمر کے بچوں سے ہی سڑک کے زیادہ حادثات رونماہورہے ہیں۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے نمایندے امان ملک کے مطابق وادی کشمیر میں سڑک حادثات کی روک تھام کیلئے محکمہ ٹریفک کی جانب سے اقدامات ا ٹھائے جارہے ہیں اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی انجام دی جارہی ہے۔ اس دوران محکمہ ٹریفک رولر کشمیر نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے قصورواروں سے جنوری 2022 سے 31 دسمبر 2022 تک 8 کروڑ 42 لاکھ 62 ہزار 450 روپے بطور جرمانہ وصول کئے ہیں۔ اس ضمن میں سی این آئی نمائندے امان ملک کے ساتھ بات کرتے ہوئے ایس ایس پی ٹریفک رولر کشمیر منظور احمد میر نے بتایا کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی پاداش میں قصورواروں کے خلاف جنوری2022 سے31 دسمبر 2022 تک 2 لاکھ 95 ہزار 2 سو 28 چالان کئے گئے ہیں۔ جبکہ اس مدت میں 8 کروڑ 42 لاکھ سے زائد رقم بھی قصورواروں سے بطور جرمانہ وصول کی جاچکی ہیں۔اس دوران محکمہ کی جانب سے جنوری 2022 سے 31 دسمبر 2022 تک ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف 56 ہزار 7 سو3 ای چلان جبکہ 5 ہزار 6 سو 37 گاڑیاں بھی ضبط کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹرک ڈرائیوروں، گاڑی مالکان،سکوٹی ،موٹر سائکل سواروں کے خلاف یہ کارروائی کی گئی ہے اور ٹریفک قوانین پرعمل نہ کرنے والوں کے خلاف آئندہ بھی اس طرح کی کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی۔ اس دوران انہوں نے لوگوں سے کہا ہے کہ وہ نابالغ بچوں کو گاڑیاں اور موٹر سائکل و سکوٹی چلانے کی اجازت نہ دیں کیوں کہ ان کیوجہ سے سڑک حادثات کا گراف بڑھ چکا ہے۔ انہوںنے بتایا کہ ایسے بچے ایک تو اپنی زندگی خطرے میں ڈال دیتے ہیں دوسرا ان سے دوسرے لوگوں کی زندگی بھی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس دوران انہوں نے سرینگر جموں شاہراہ پر سفر کرنے والے خواہشمند افراد سے بھی کہاہے کہ وہ ایڈوائزری پر مکمل عمل کریں اور ٹریفک نظام اوقات کار کا پتہ لگانے کے بعد ہی آگے سفر پر جائیں تاکہ آگے چل کر انہیں کسی طرح کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔










