سرحدی ضلع میں جنگلی جانوروں اور انسانوں میں تصادم آرائیاں

2022میں55واقعات رونما تین نابالغ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ، 25 افراد زخمی

سری نگر//شمالی کشمیر کے سرحدی ضلع کپواڑہ میں محکمہ وائلڈلائف یعنی جنگلی حیات کا محکمہ انسانوں اور جنگلی جانوروں کے تصادم کے بڑھتے ہوئے واقعات سے نمٹنے کیلئے بہتر طور پرآراستہ یا لیس نہیں ہے۔جبکہ سال2022میں انسانوں اور جنگلی جانوروںکے درمیان تصادم آرائیوں کے55واقعات رپورٹ ہوئے ،اوران واقعات میں3کمسن اورنوعمر لقمہ اجل بن گئے جبکہ کچھ خواتین سمیت25افرادزخمی ہوگئے ۔جے کے این ایس کوملی تفصیلات کے مطابق ضلع کپوارہ میں محکمہ جنگلی حیات کے پاس افرادی قوت اور لازمی سامان کی کمی ہے ،جسکے باعث متعلقہ محکمہ کاعملہ جنگلی جانوروں کے انسانوں پر بڑھتے حملوںکوروکنے میں ناکام نظرآتاہے ۔محکمہ وائلڈ لائف کے ذرائع نے بتایاکہ ضلع کپوارہ میں متعلقہ محکمہ کی کل افرادی قوت31ہے ،جن میں سے صرف6ملازمین مستقل ہیں اورباقی25معمولی اُجرت پرکام کرنے والے کیجول لیبرس ہیں ۔انہوںنے کہاکہ جنگلی جانوروں اور انسانوںکے درمیان پیش آنے والے تصادم آرائیوںکے واقعات سے نمٹنے کیلئے محکمہ کے پاس افرادی قوت کی کمی کے ساتھ ساتھ لازمی سامان کافقدان بھی ہے ۔انہوںنے بتایاکہ کپوارہ میں محکمہ وائلڈ لائف کے پاس کوئی ریسکو وین یاگاڑی بھی نہیں ۔ایک میڈیا رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایاگیاہے کہ ضلع کپوارہ میں محکمہ وائلڈ لائف کے صرف6 مستقل ملازمین ہیں جبکہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے 25کیجول لیبر معمولی اجرت پر محکمہ کو اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔کیجول لیبروںکاکہناہے کہ ہماری تعداد25ہے اور ہم 10سال سے زیادہ عرصے سے معمولی اُجرت پر خدمات انجام دے رہے ہیں ،اور بار بارکی گزارشات کے باوجود ابھی تک ہماری ملازمت کوباقاعدہ نہیں بنایاگیا۔انہوںنے کہاکہ ہمیں ماہانہ بنیادوں پر اُجرت نہیں دی جاتی ہے بلکہ ہمیں 3سے4ماہ کے بعدکچھ روپے ہاتھوںمیں تھمادئیے جاتے ہیں ۔ایک کیجول لیبرنے بتایاکہ پورے کشمیرمیں محکمہ وائلڈ لائف میں 151کیجول لیبر ملازمت کی مستقلی کاانتظار برسوں سے کررہے ہیں،اور ان میں سے بھی صرف سفارشی کیجول لیبروںکومستقلی کی لسٹ میں رکھاگیاہے ۔اس دوران میڈیا رپورٹ میں متعلقہ افسروں کاحوالہ دیتے ہوئے بتایاگیاہے کہ وائلڈلائف محکمہ کو مشینری سے لیس کیا گیا ہے اور کپواڑہ ضلع کیلئے ایک ریسکیو وین کی منظوری دی گئی ہے، جو اسے ایک ماہ میں مل جائے گی۔دریں اثناء حکام نے بتایا کہ2022 میں کپوارہ ضلع میں انسانوں اورجنگلی جانوروں کے تصادم آرائیوںکے 55 واقعات رپورٹ ہوئے جن کے دوران3 نابالغ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے جبکہ 25 افراد زخمی ہوئے۔انہوں نے بتایا کہ سال2022 کے دوران کپوارہ ضلع کے لنگیٹ، ہندواڑہ اور کپوارہ بلاکوں میں 35 جنگلی جانوروں کو بھی بچایا گیا جنہیں بعد میں گھنے جنگلات میں چھوڑ دیا گیا۔