چاروں مہلوک عساکر کے خون کے نمونے ڈی این اے کیلئے لیب بھیج دیئے گئے ۔ حکام
سرینگر//سدرا جموں انکاونٹرمیں مارے گئے عسکریت پسندوں کے خون کے نمونے ڈی این اے کے لئے لیبارٹری بھیج دیئے گئے ہیں۔اس دوران مہلوک جنگجوئوں کی تدفین آر ایس پورہ میںانجام دی گئی ہے ۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ جنگجوئوں کی شناخت کے حوالے سے اقدامات اُٹھائے گئے ہیں۔ سی این آئی کے مطابق جموں کے سدرا نامی علاقے میںگزشتہ روز ہوئی جھڑپ میں مارے گئے جنگجوئوں کے حوالے سے پولیس حکام نے کہا کہ عسکریت پسندوں کی ابھی تک شناخت نہیں ہو سکی ہے۔ اس لیے ان کے ڈی این اے کے نمونے لیے گئے ہیں، تاکہ مستقبل میں پکڑے جانے والے ان کے ساتھیوں کا ڈی این اے میچ کر سکے۔سدرا، بسرہ اور اسالہ میں مارے گئے جنگجوئوں کے ڈی این اے کے نمونے ایف ایس ایل اور ملک کی مختلف لیبز میں ٹیسٹ کے لیے بھجوا دیے گئے ہیں۔ ملیٹنٹو ں سے برآمد ہونے والے کیمیکلز، درد کش ادویات، چاکلیٹ اور بسکٹ کو بھی جانچ کے لیے لیب بھجوا دیا گیا ہے۔پولیس نے موقع پر موجود چاروں مہلوک عسکریت پسندوں کا پوسٹ مارٹم کیا۔ ان جنگجوئوں کو بدھ کی دیر شام آر ایس پورہ میں سپرد خاک کیا گیا۔ ان کی تدفین کے لیے آر ایس پورہ کے علاقے میں جگہ کا تعین کیا گیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق ابھی تک مہلوک ملیٹنٹوں کی شناخت نہیں ہو سکی ہے۔اس لیے ان کے ڈی این اے کے نمونے لیے گئے ہیں، تاکہ مستقبل میں پکڑے جانے والے ان جنگجوئوںکے ساتھیوں کا ڈی این اے میچ کر سکے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ملیٹنٹوںکی لاشیں کافی حد تک جل چکی ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے چہرے بھی ٹھیک طرح سے پہچانے نہیں جاتے تھے۔ عسکریت پسندوں پر راکٹ لانچرز سے حملہ کیا گیا۔اس سلسلے میں نگروٹہ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔ پولیس نے 307 قاتلانہ حملہ، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام ایکٹ (UAPA) اور 3/25 اسلحہ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ دوسری طرف این آئی اے میں درج ایف آئی آر میں بھی معاملے کی جانچ کی جا رہی ہے۔










