ہم سرحد پار سے کی جانے والی تمام سازشوں کو ناکام دیں گے : ڈی جی پی دلباغ سنگھ
سری نگر//جموں و کشمیر پولیس کے ڈائریکٹر جنرل دلباغ سنگھ نے پیر کو کہا کہ مضبوط حفاظتی حصار کی وجہ سے پچھلے سالوں کے مقابلے 2022 میں پاکستان سے دہشت گردوں کی دراندازی میں کمی آئی ہے۔پولیس چیف نے کہا کہ دہشت گردی کے نام پر بنائی گئی جائیدادوں یا دہشت گردی کی سرگرمیوں کی فنڈنگ کیلئے استعمال ہونے والی جائیدادوں کی شناخت کا عمل جاری ہے اور قانون کے مطابق اس طرح کے ڈھانچے کو ضبط کرنے یا بعض صورتوں میں مسمار کرنے جیسی مناسب کارروائی کی جا رہی ہے۔جے کے این ایس کے مطابق ڈی جی پی دلباغ سنگھ، جو پولیس کی طرف سے منعقدکئے جانے والے ایک T-20 کرکٹ ٹورنامنٹ کا افتتاح کرنے کیلئے کٹھوعہ میں تھے، نے کہا کہ دہشت گردی کے تربیتی کیمپ پاکستان کے ساتھ سرحد کے دوسری طرف مختلف علاقوں میں سرگرم ہیں۔ ڈی جی پی نے کہاکہ تربیتی کیمپوں کی تعداد میں کبھی اضافہ اور توکبھی کمی آ جاتی ہے لیکن ایسے مراکز کبھی بھی مکمل طور پر بند نہیں ہوتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ہوسکتا ہے کہ کٹھوعہ کے سامنے کوئی تربیتی مرکز نہ ہو لیکن یہ دوسرے حصوں میں موجود ہیں۔ پولیس چیف نے نامہ نگاروں کو بتایاکہ گزشتہ سالوں کے مقابلے اس سال (پاکستان سے دہشت گردوں کی) دراندازی میں کمی آئی ہے کیونکہ ہمارا سرحدی (سیکورٹی) گرڈ بہت مضبوطی سے کام کر رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ انسداد دہشت گردی گرڈ بھی قابل ستائش کام کر رہا ہے اور ہم سرحد پار سے کی جانے والی تمام سازشوں کو کچل دیں گے۔جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں پاکستان میں مقیم جیش محمد کے کمانڈر عاشق نینگرو کے گھر کو مسمارکئے جانے کے بارے میں پوچھے جانے پردلباغ سنگھ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں امن کے دشمنوں اور ان کے حامیوں نے دہشت گردی کے نام پر جائیدادیں اکٹھی کی ہیں۔انہوںنے کہاکہ ان جائیدادوں میں وہ ادارے اور عمارتیں شامل ہیں جو دہشت گردی کو زندہ رکھنے کے لئے استعمال ہو رہی ہیں۔ڈی جی پی کاکہناتھاکہ ایک ایک کرکے ایسے تمام ڈھانچوں کی نشاندہی کی جارہی ہے اور قانون کے مطابق ایسی جائیدادوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔حکام کے مطابق نینگرو کا گھر مبینہ طور پر نیو کالونی، راج پورہ میں سرکاری اراضی کے ایک ٹکڑے پر بنایا گیا تھا اور اسے انسداد تجاوزات مہم کے تحت مسمار کیا گیا تھا۔ڈی جی پی دلباغ سنگھ نے کہا کہ ایسی جائیدادوں کو ضبط کرنے یا سیل کرنے کی مہم چلائی جا رہی ہے اور ایسی صورت میں جہاں حکومتی قواعد و ضوابط کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے، ایسے ڈھانچے کو قانون کے مطابق منہدم کر دیا جائے گا۔دہشت گرد تنظیم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کی شاخ مزاحمتی محاذ (TRF) کی طرف سے جاری کردہ کشمیری مہاجر پنڈت ملازمین کی ہٹ لسٹوں کی ایک سیریز کے دوران، سنگھ نے کہا کہ اس کا مقصد لوگوں میں خوف و ہراس اور الجھن پیدا کرنا ہے۔انہوںنے کہاکہ TRF ہمارے ریڈار پر ہے اور ہم نے ماضی میں اس گروپ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے اور ہمارے اقدامات اسے ختم کرنے کے لیے جاری رکھیں گے۔دلباغ سنگھ نے کہاکہ ٹی آر ایف پاکستان کی انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کا ایک ماؤتھ پیس ہے اور مختلف دہشت گرد گروپوں کی جانب سے کام کر رہا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان نے گزشتہ30 سالوں میں جموں و کشمیر کے لوگوں کی زندگیاں اپنی سرزمین سے دہشت گردی کی سرپرستی کرکے تباہ کی ہیں اور اب نوجوانوں اور معاشرے کو برباد کرنے کے لیے منشیات کی اسمگلنگ کی شکل میں ایک اور جہت کا اضافہ کیا ہے۔پولیس چیف کاکہناتھاکہ منشیات (پاکستان سے) بڑی تعداد میں آرہی ہیں جو کہ پولیس کی جانب سے کی گئی برآمدگی سے ظاہر ہے۔اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ منشیات کی لعنت کے خلاف مہم جاری رہے گی، ڈی جی پی نے کہا کہ پولیس نشے کے عادی افراد کی مدد کرنے میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے جن کی بحالی کے مراکز میں بحالی کی جا رہی ہے۔انہوںنے کہاکہ ہم یہاں عوام کی مدد کیلئے ہیں جو اس طرح کی مزید سہولیات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ جموں، سری نگر اور زونل سطح پر نشہ چھڑانے کے بہت سے مراکز کام کر رہے ہیں۔ جموں میں منشیات سے چھٹکارا پانے کا ایک اور بڑا مرکز قائم ہو رہا ہے۔










