Lt Governor Manoj Sinha addressed birth anniversary celebration of Mahamana Pt. Madan Mohan Malaviya at Central University of Gujarat

لیفٹیننٹ گورنر کا گجرات کی سینٹرل یونیورسٹی میں مہامنا پنڈت مدن موہن مالویہ کے یوم پیدائش کی تقریب سے خطاب

گجرات//لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے سینٹرل یونیورسٹی گجرات میں مہامنا پنڈت مدن موہن مالویہ کی یوم پیدا ئش تقریب سے خطاب کیا۔لیفٹیننٹ گورنر نے مہامنا پنڈت مدن موہن مالویہ کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ مہامنا پنڈت عظیم ماہر تعلیم ، مفکر ، آزادی پسند اور قدیم حکمت او رجدید سائنس پر مبنی نئے تعلیمی ماڈل کے حامی تھے۔مہامنا پنڈت نے ہمیشہ تعلیم اور یونیورسٹی کیمپس کو سماجی تبدیلی اور معاشی ترقی کے پلیٹ فارم کے طور پر تصور پیش کیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ مہامنا پنڈت نے تکنیکی تعلیم او رصنعتی ترقی میں ایک علمبردار کے طور پر ہندوستانی سماج میں ایک تاریخی تبدیلی لانے کے لئے علم پر مبنی معیشت پر توجہ مرکوز کی۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا،’’ مجھے یقین ہے کہ یونیورسٹی کیمپس واقعی ایک جامع معاشرے کے لئے خیالات اور خواہشات کا نیٹ ورک ہیں۔خیالات کے یہ نیٹ ورک قوم کی تعمیر کے لئے انسانی سرمایہ اوردیرپا ترقی کے حصول کے لئے ان کی صلاحیت پیدا کر رہے ہیں۔اُنہوں نے کہا کہ ماحولیاتی، تکنیکی،سائنسی ترقی دنیا میں تیزی سے تبدیلیاں سماجی و اقتصادی منظرنامے کو وسیع کر رہی ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نئے علم کی تخلیق، ڈیجیٹل انقلاب، طلباء کی کثیر جہتی ترقی اور جدید پالیسی ردِّعمل کو بروئے کار لا کر مستقبل کو نئی شکل دے سکتے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ ہم دنیا کی پانچویں بڑی معاشی طاقت بن چکے ہیں کیوں کہ ہر شعبہ آپس میں مل کر کام کر رہا ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو شامل کرکے اور ان کو مل کر کام کرنے کی ترغیب دے کرہم یونیورسٹیوں میں مثبت خیالات کو فروغ دے سکتے ہیں۔اُنہوں نے زور دے کر کہا کہ جب مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے زیادہ سے زیادہ لوگ مستقبل کے بارے میں ایک مشترکہ وژن کا اشتراک کریں گے تو تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے، قوم کی تعمیر اور سماجی مسائل کے حل کے لئے ہمارا عزم اتنا ہی مضبوط ہوگا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ دہائی میں ہمیںڈیجیٹل تقسیم کے چیلنجوں کا سامنا تھا لیکن اب آہستہ آہستہ یہ فرق کم ہو گیا ہے۔ تاہم، معاشرے اور تعلیمی نظام کو مستقبل میں تحریکی تقسیم کے چیلنج کا سامنا کرنا پڑے گا۔لیفٹیننٹ گورنر نے طلباء اور اداروں کو سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراعات کو فروغ دینے کی ترغیب دینے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ تحریکی تقسیم کو ختم کیا جا سکے۔ اُنہوں نے مزید کہا، ’’مستقبل صرف ان یونیورسٹیوں کا ہو گا، جو زمین پر موجود نظریات کو سمجھنے کے لئے مختلف شعبوں کے طلباء کے ساتھ تحریک اور ترغیب سے کام کریں گی۔‘‘اُنہوں نے طلباء کی مشغولیت، اختراع، انکیوبشن، تجسس کو فروغ دینے اور ایک ایسے ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کے لئے قومی تعلیمی پالیسی کے ذریعے تعلیمی نظام کو تبدیل کرنے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی کوششوں پر بات کی جہاں علمی معاشرہ اور اِقتصادی ترقی ایک دوسرے کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر نے جموںوکشمیر کے نوجوانوں کا بھی تذکرہ کیا جو پالیسی اقدامات اور جموںوکشمیر یوٹی حکومت کی متعدد فلیگ شپ سکیموں او رخواتین کی صنعت کاری ، ورثے کے تحفظ ، فلم پالیسی جموں اور سری نگر سمارٹ سٹی پروجیکٹوں جو شہری تبدیلی اور دیگر ترجیحی شعبوں کو آگے بڑھا رہے ہیں۔لیفٹیننٹ گورنر نے فیکلٹی ممبران اور طلباء سے بات چیت کی اور اُن پر زور دیا کہ وہ مہامناپنڈت کی اقدار اور نظریہ پر عمل کریں اور عوامی فلاح و بہبود اور سماج کی بہتری کے لئے کام کریں۔اُنہوں نے سینٹرل یونیورسٹی گجرات کی کوششوں کو بھی سراہا۔اِس موقعہ پر وائس چانسلر سینٹرل یونیورسٹی گجرات پروفیسر راما شنکر دوبے نے خطاب کرتے ہوئے مہامنا پنڈت مدن موہن مالویہ کی زندگی پر روشنی ڈالی ۔اِس موقعہ پر ڈینز ، ڈیپارٹمنٹوں کے سربراہان، فیکلٹی ممبران اور طلباء کی کثیر تعداد موجود تھی۔