2017میں جامع مسجد سری نگرکے باہر ڈی ایس پی کاشبانہ قتل

تاریخی جامع مسجد سری نگرمیں فوٹو گرافی پر پابندی عائد

مردوزن کے باہر ’لان ‘میں یکجا بیٹھنے کی ممانعت

سری نگر//شہرخاص میں واقع مرکزی جامع مسجد کے اندر فوٹو گرافی پر پابندی عائد کرنے کیساتھ ساتھ مردوزن کے مسجدکے ’لان ‘میں اکٹھے بیٹھنے کی ممانعت کردی گئی ہے ۔جے کے این ایس کے مطابق تاریخی جامع مسجدسری نگر کی انتظامیہ نے ایک نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے مسجد کے اندر فوٹوگرافی پر پابندی عائد کی ہے اور مرد اور خواتین سے کہا ہے کہ وہ مسجد کے’ لان‘ میں ایک ساتھ نہ بیٹھیں۔انجمن اوقاف مرکزی جامع مسجد نے مسجد کمپلیکس کے چاروں طرف لگائے گئے نوٹیفکیشن میں کہا کہ فوٹو گرافی کے سامان کا داخلہ بھی ممنوع ہے۔نوٹیفکیشن میں واضح کیاگیاہے کہ فوٹوگرافروں یا کیمرہ پرسن کو مسجد کے اندر کسی بھی قسم کی تصاویر لینے یا کلک کرنے کی ممانعت ہے۔ یہاں تک کہ کسی بھی قسم کی تصاویر کو کلک کرنے کیلئے استعمال ہونے والے آلات کی بھی مکمل طور پر اجازت نہیں ہے اور انہیں فوری طور پر گیٹ پر روک دیا جانا چاہیے۔انجمن اوقاف مرکزی جامع مسجد نے تاریخی جامع مسجد کے احاطے میں کھانے پینے کی اشیاء لے جانے پر بھی پابندی عائد کردی۔نوٹیفکیشن میں کہاگیاہے کہ مسجد کے اندر کسی کو دوپہر کا کھانا یا کسی قسم کے کھانے کی اشیاء لینے کی اجازت نہیں ہے۔ اس طرح، زائرین کو گیٹ پر ہی روکنے کی ضرورت ہے۔ نوٹیفکیشن میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ مسجدکے ’لان ‘میں مردوزن کے اکٹھے بیٹھنے کی ممانعت کردی گئی ہے۔14ویں صدی کی تاریخی جامع مسجدسری نگر کی انتظامیہ نے اپنے سیکورٹی گارڈز کو ہدایت کی کہ وہ ان ہدایات پر فوری عمل درآمد کریں۔عورتیں مسجد میں داخل ہو سکتی ہیں اگر ان کیلئے مردوں کی طرح الگ جگہ مقرر ہو۔