dooran

نظر بند حریت لیڈر محمد الطاف شاہ بیٹی کا وزیراعظم کوخط ارسال

میرے والد تہاڑ جیل میں سخت علیل،جیل میں رکھنے کے بجائے اسپتال منتقل کرنے کی پُرزوراپیل

سری نگر//تہاڑ جیل میں بند کشمیری حریت رہنما محمد الطاف شاہ عرف الطاف فنتوش کی بیٹی نے وزیراعظم نریندر مودی کو خط لکھ کر اپنے بیمار والد کیلئے فوری طبی امداد کی درخواست کی ہے۔جے کے این ایس مانٹرینگ ڈیسک کے مطابق محبوس لیڈر الطاف شاہ کی بیٹی رویدا شاہ کے مطابق اُن کے والد جیل میںبیمار ہیں۔ الطاف شاہ کی بیٹی نے جیل حکام سے درخواست کی ہے کہ وہ اس کے والد کو جیل کے بجائے مناسب ہسپتال منتقل کریں تاکہ ان کا علاج بہتر طریقے سے ہو۔ رویدا شاہ کے مطابق اُن کے والد الطاف فی الحال آکسیجن سپورٹ پر ہیں۔حریت رہنما کی بیٹی نے وزیراعظم مودی کو بھیجے گئے خط میں لکھا ہے کہ میرے والد الطاف احمد شاہ جو اس وقت نئی دہلی کی تہاڑ جیل میں قید ہیں، 2 ہفتوں سے زیادہ عرصے سے علیل ہیں اس دوران انہوں نے جیل حکام سے بار بار ہسپتال لے جانے کی درخواست کی۔ آخر کار جب اُنہیں دین دیال ہسپتال جنک پوری لے جایا گیا تو ڈاکٹروں نے ان کی نازک حالت کے پیش نظر مزید علاج کے لئیرام منوہر لوہیا ہسپتال ریفر کر دیا لیکن اس کے بجائے انہیں تہاڑ جیل واپس لایا گیا۔رویدا شاہ نے مزید بتایا کہ جب خاندان کے افراد نے این آئی اے کی خصوصی عدالت میں ان کی صحت کے بارے میں دریافت کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ جیل حکام نے صرف اس بات کا ذکر کیا ہے کہ انہیں(الطاف شاہ) ذیابیطس اور ہائپر ٹینشن کا شکار ہیں۔ رویدا شاہ نے الزام لگایا کہ این آئی اے نے ان کے والد کے نمونیا، انتہائی کم ہیموگلوبن اور گردے کی خرابی کا ذکر نہیں کیا۔وزیراعظم کوبھیجے گئے خط میں جو پورے خاندان کی جانب سے لکھا گیا ہے، میںکہا گیا کہ گزشتہ2دنوں سے ان کے پاس الطاف شاہ کے حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی سے گزارش ہے کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور مطلوبہ طبی مدد ان کے والد الطاف شاہ تک پہنچائیں۔