ترقی اور اِقتصادیات کو فروغ دینے کیلئے تعلیم ، سیاحت اور صنعتی سیکٹر میںکئی اِختراعی اقدامات کئے گئے ہیں
سری نگر//جموںوکشمیر اِنتظامیہ یوٹی بھر میں مساوی خدمات فراہم کرنے کے لئے ایک منظم نظام قائم کر رہی ہے جو ہر ایک کو یکساں مواقع فراہم کرنے اور لوگوں کے معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کے لئے تمام وسائل کو بروئے کار لانے کی کوشش کر رہی ہے جو کئی دہائیوں سے ترقی سے محروم ہیں۔یونین ٹیریٹری کے تعلیمی شعبے میں گذشتہ برسوں میں کئی اقدامات اور بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کی کوششیں کی گئیں۔جموںوکشمیر یوٹی کے تعلیمی نظام کو قومی تعلیمی پالیسی 2020 کی سفارشات کے مطابق تبدیل کیا گیا ہے۔جموںوکشمیر میں’’ آئو سکول چلیں مہم ‘‘ سے پسماندہ طبقوں کے لاکھوں طلباء کو کلاس روموں میں واپس لایا گیا ہے ۔جموںوکشمیر یوٹی کے دُور دراز علاقوں میں نوجوانوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے مقصد سے 50 ڈگری کالج قائم کر کے گریجویٹ سطح پر 25,000 اِضافی نشستیں فراہم کی گئی ہیں۔ گذشتہ 70برسوں میں اعلیٰ تعلیمی شعبے میں یہ سب سے بڑا اِضافہ ہے۔تمام اعلیٰ تعلیمی اِداروں میں یکساں تعلیمی کیلنڈر متعارف کیا گیا ہے۔موجودہ ایل جی کی زیر قیادت اِنتظامیہ قبائلی بچوں کی تعلیم پر سب سے زیادہ توجہ دے رہی ہے جس کا اَندازہ اِس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ قبائلی اَمور محکمہ نے پہلی بار تعلیم کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے ایک مشق ’قبائلی تعلیم اور خواندگی‘ کا آغاز کیا ہے۔اِس طرح کے سروے کی بنیاد پر قبائلیوں کی مخصوص تعلیمی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک جامع تعلیمی منصوبہ تیار کیا گیا تھا ۔ اِس کے علاوہ محکمہ تعلیم کی طرف سے جموںوکشمیر کے تعلیمی اِداروں کو اَپ گریڈ کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔موجودہ حکومت کی ترجیح قبائلی بچوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا ہے ۔ قبائلی اور دُور دراز علاقوں میں سمارٹ سکولوں کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا جارہا ہے جو بچوں میں سائنسی مزاج پیدا کر کے انہیں مستقبل کے لئے تیار کرنے اور سکول چھوڑنے کی شرح کو بھی روک سکتے ہیں۔جموں وکشمیر میں قبائلی طبقے کے لئے اِمکانات روشن ہیں کیوں کہ اِس کے فائدے کے لئے متعدد سکیمیں شروع کی گئی ہیں ۔ قبائلی طبقے کے اِمکانات پہلے کبھی اتنے روشن نہیں تھے جتنے آج ہیں ۔ فارسٹ رائٹس ایکٹ ،پی ایم وَن دھن یوجنا، ہیلتھ کیئر ،ٹرانسپورٹ سہولیت ، ہوسٹل ، سیاحتی گائوں ہنرکی ترقی ۔ہر اقدام کا مقصد جموںوکشمیر کی ترقی کو یقینی بنانا ہے۔جموںوکشمیرکا ہر شعبہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔سیاحتی شعبے کے بارے میں لاکھوں سیاح جنہوں نے اِس برس جموںوکشمیر کا دورہ کیا ، اِس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ جموںوکشمیر یوٹی میں مجموعی ترقی اور تبدیلی آئی ہے کیوں کہ موجودہ برس سیاحوں کی سب سے زیادہ تعداد درج ریکارڈ ہے۔جموںوکشمیر کے باشندوں کی شبانہ پروازوں کے آپریشن کا دیرینہ مطالبہ پورا ہو گیا ہے ۔’ آزادی کے اَمرت مہااُتسو‘ کی تقریبات کے ایک حصے کے طور پر جموںوکشمیر میں 75 آف بیٹ سیاحتی مقامات تیار کئے جارہے ہیں۔جموںوکشمیر بالی ووڈ کے لئے شوٹنگ کا پسندیدہ مقام رہا ہے کئی دہائیوں کے بعد فلم سازوں کو راغب کرنے کے لئے گذشتہ برس ایک جامع فلم پالیسی کا آغاز کیا گیا ہے اور اِس پالیسی کے نوٹیفکیشن کے ایک برس کے اَندر ہی فلم سازوں نے بڑی تعداد میں فلموں اور ویب سیریز کی شوٹنگ کی اجازت حاصل کرنے کے لئے محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ ( ڈی آئی پی آر ) فلم پالیسی کی عمل آوری کے لئے نوڈل ڈیپارٹمنٹ ہے۔حکومت جموں و کشمیر کے نوجوان ٹیلنٹ کو نئے مواقع فراہم کرنے اور یونین ٹیریٹری کے کاروباری ماحولیاتی نظام کو فروغ دینے کے لئے جدید ترین سہولیات سے ایک فلم سٹوڈیو شروع کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔مرکز اِس خوش آئند صنعتی اور اِقتصادی بحالی کی نگرانی کے لئے کریڈٹ کا مستحق ہے جو 2019ء کے نصف آخر سے جموںوکشمیر کو ڈرامائی طور پر تبدیل کر رہا ہے ۔گذشتہ دو برسوں میں بھارت اور بیرونِ ملک سے سرمایہ کاری نے ترقی اور سماجی و اِقتصادی پیرا میٹروں میں تیزی سے بہتری لائی ہے ۔ بڑے اقدامات نے ترقی کے کلیدی شعبوں میں پیش قدمی کی اِجازت دی ہے ۔ جموںوکشمیر بھارت کے سرکردہ یوٹیز میں سے ایک بننے کی راہ پر ہے۔ترقی کے ثمرات ہر آدمی تک نہیں پہنچنے دئیے گئے ۔ تفرقہ انگیز او رامتیازی پالیسیوں کو ہٹاکر کمیونٹی کے تمام طبقات کو ترقی کے عمل میں مؤثر شراکت دار بنایا گیا ہے۔خواتین کو بااِختیار بنانے کے لئے حکومت گورننس ، کاروبار اور دیگر شعبوں میں خواتین کی شرکت کی حوصلہ اَفزائی کے لئے سہولیات پیدا کرنے کے لئے فعال اِنٹرونشن کر رہی ہے ۔ جموںوکشمیر یوٹی میں ایک صنف پر مشتمل ماحولیاتی نظام بنایا جارہا ہے تاکہ خواتین کو تعلیم اور معاشی ترقی تک بہتر رَسائی حاصل ہو۔جموںوکشمیر کی حکومت ایک مثالی ، صنف پر مشتمل ماحولیاتی نظام تشکیل دے رہی ہے جہاں انہیں تعلیم اور اِقتصادی ترقی تک بہتر رَسائی حاصل ہو،انہیں ہمارے ترقیاتی اَقدامات کے مرکز میں رکھا جائے اور حاشیہ پر رہنے والوں کو ان کے حقوق سے آگاہ کیا جائے ۔ایک آفیسر نے کہا کہ حکومت پالیسیوں کے مناسب عمل آوری پر زور دے رہی ہے اور خواتین کی ہنر مندی کی تربیت اور دوبارہنر مندی پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے تاکہ مستقبل کے معاشی مواقع میں ان کا مساوی حصہ ہو۔دریں اثنأ، حکومت کی سنجیدگی کی وجہ سے حال ہی میں اعلان کردہ نئی صنعتی پالیسی کے تحت سرمایہ کاری کے لئے زبردست ردِّعمل ملا جس سے نوجوانوں کے لئے روزگار کے لاکھوں مواقع پید ا ہوں گے۔پالیسی کے مطابق یکم ؍ اپریل سے تجارتی پیداوار میں آنے والی تمام صنعتی یونٹوں اور خاطر خواہ توسیع کرنے والے موجودہ یونٹوں اس پالیسی کے تحت مراعات کے حقدار ہوں گے جبکہ سابقہ صنعتی پالیسی 2016 ء کے تحت پرانی پالیسی کے تحت 31 ؍مارچ 2026 ء تک اس سے فائدہ اُٹھانے کی اِجازت ہوگی۔ جموںوکشمیر میں صنعت قائم کرنے اور چلانے کے لئے یوٹی سے متعلقہ تمام خدمات ، رضامندی اور اِجازت سنگل وِنڈو پورٹل سے فراہم کی جارہی ہیں۔










