حکومت کی راحت رسانی اور تکنیکی معاونت سے مشروم کی کاشتکاری کسانوں کیلئے فائدہ بخش ثابت ہو رہی ہے
سری نگر//محکمہ زراعت کی جانب سے نئے دُور کے زرعی اَنٹرپرینیوروںکو بہترین طریقے اور تکنیکی معلومات فراہم کرنے کی کوششوں سے مشروم جموں وکشمیر بھر میں ایک نئے کیش کراپ کے طور پر اُبھر رہا ہے۔راشٹریہ کرشی وِکاس یوجنا کے تحت مشروم کی کاشت ایک توجہ کا مرکز ہے اور مشروم کے کاشت کار معیاری بیجوں سے لیس ہیں اور سائنسی کاشت کی تکنیک میں تربیت یافتہ ہیں۔ وادی مشروم کی کاشت کے کاروبار میں کامیابی کی بہت سی داستانوں پر فخر کرتی ہے اورحکومت کی50 فیصد سبسڈی، راحت رسانی اور تکنیکی معاونت سے مشروم کی کاشتکاری کسانوں کیلئے فائدہ بخش ثابت ہو رہی ہے۔نان ٹمبر فارسٹ پروڈکٹس ( این ٹی ایف پی ) جیسے مشروم فارسٹ ائیریا میں رہنے والے لوگوں کے لئے ذریعہ معاش ہیں ۔ جموںوکشمیر کا 20,230 مربع کلو میٹر جنگلات میںگھرا ہوا ہے جو کہ اِس کے کُل جغرافیائی رقبے کا تقریباً20فیصد ہے۔جموںخطے کے شیوالک رینج میں مشروم ( بالخصوص گچھی) کسانوں کو آمدنی فراہم کرتی ہیں۔ گچھی مشروم ایک زبردست تجارتی قیمت حاصل کرتے ہیں لہٰذا یہ اَکثر جنگل کے باشندوںکے لئے ایک مقابلہ ہوتا ہے کہ وہ مستقبل بنیادوں پر ان کا ایک گروپ تلاش کریں۔حالیہ حکومتی اَقدامات سے جموںشیوالک کے جنگلات میں رہنے والوں کو مشروم بالخصوص گچھی کو جمع کرنے اور پروسسنگ کی تکنیکوں ، مارکیٹ کے علم اور مارکیٹ تک رَسائی کے بارے میں باضابطہ تربیت اور ہدایات دی جارہی ہیں تاکہ ان کی کوششوں سے انہیں ان کا صحیح کمایا ہوا حصہ مل سکے۔خواتین کی زیر قیادت سیلف ہیلپ گروپس کی حوصلہ اَفزائی ’’ حوصلہ‘‘ اور ’’ تیجسوینی‘‘ اَنٹر پرینیور شپ سکیموں کے تحت کی جارہی ہے جو مرکز نے جموںوکشمیر میں متعارف کی ہیں۔ جنوبی کشمیر کے ترال گائوں سے تعلق رکھنے والی دو نوجوان کشمیری لڑکیوں نے قومی دیہی روزی روٹی مشن ( این آر ایل ایم ) سکیم کے تحت گزشت برس مشروم کی کاشت کا یونٹ شروع کیا۔اُنہوں نے اَپنی اعلیٰ تعلیم کے بعد کیا کرنا ہے اس پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے معلوم ہوا کہ محکمہ زراعت مشروم کی کاشت میں دِلچسپی رکھنے والوں کو مالی او رتکنیکی مدد فراہم کرتا ہے ۔اُنہوں نے محکمہ زراعت میں مشروم کی کاشت کے بارے میں سیکھا ۔اَب رقیہ جان اور صوبیہ ایک برس سے بھی کم عرصے میں مشروم کی کاشت کے کئی کامیاب یونٹ چلا رہے ہیں۔پلوامہ کی نیلوفر جان نے محکمہ زراعت کشمیر سے مشروم کی کاشت کی تربیت حاصل کی اور وہ سالانہ 90,000 سے ایک لاکھ روپے کمانے کا دعویٰ کرتی ہے۔ جموںوکشمیر اِنتظامیہ خواتین کو بااِختیار بنانے میں معاشی ترقی کے تمام منصوبوں میں سب سے آگے ہے ۔ جموںوکشمیر یوٹی کی سماجی و اِقتصادی ترقی میں ان کے کردار کو تسلیم اور سراہا جاتا ہے۔ شوپیاں میں جہانگیر احمد ملک او راس کے دوست عمر یاسین نادیگام بستی کے لوگ محکمہ زراعت سے تربیت اور سبسڈی حاصل کرنے کے بعد مشروم کی کاشت شروع کر رہے ہیں۔ دونوں نے یہ یونٹ محکمہ زراعت کی مدد سے 20×18 کے کمرے میں قائم کیا او رگذشتہ چھ ماہ سے مشروم کی کاشت کر رہے ہیں ۔ جہانگیر احمد ملک کا خیال ہے کہ بے روزگار نوجوان بالخصوص دیہی علاقوں میں رہنے والے ترقی پسند کاشت کاری کی طرف رجوع کر کے آسانی سے اَپنی روزی کما سکتے ہیں۔اِسی طرح کپواڑہ میں ایک نوجوان جس نے دو برس قبل خود مختار ہونے کے لئے اَپنی ملازمت چھوڑ دی تھی اَب مشروم فارم کا مالک ہے ۔برامری کپواڑہ کے نثار احمد گنائی نے اس وقت اَپنی ملازمت چھوڑ دی جب انہیں محکمہ زراعت کی طرف سے مشروم کی کاشت کو آگے بڑھانے کی ترغیب دی گئی ۔ اَپنی پہلی کامیاب فصل کے بعد نثار احمد گنائی نے مشروم کی کاشت کے پانچ یونٹ لگائے ہیں جس سے وہ اَچھی آمدنی حاصل کر رہے ہیں۔










