forests

فارسٹ رائٹس ایکٹ سے قبائلی طبقے کے لوگو ں کے معیارِ حیات میں نمایاں بہتری رونما ہوئی

سری نگر//فارسٹ رائٹس ایکٹ کی عمل آوری جموںوکشمیر میںماضی میں کی گئی غلطیوں کو درست کرنے کے ساتھ ساتھ نچلی سطح کی جمہوریت کو مضبوط کر رہا ہے۔جموںوکشمیر حکومت نے ستمبر 2021ء میں ایک تاریخی باب رقم کیا جب لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا نے سری نگر میں ایک تقریب میں فارسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت گجر ، بکروال اور گڈی سپی طبقوں کے استفادہ کنندگان میں اِنفرادی اور اِجتماعی حقوق اسناد حوالے کئے۔اِس تقریب کو جموںوکشمیر یوٹی میں قبائلی طبقوں کے اَرکان کی زندگی کو تبدیل کرنے کے لئے ایک اہم قدم کے طور پر سراہا گیا کیوں کہ جنگل میں رہائش پذیر شیڈول ٹرائب اور دیگر روایتی جنگل میں بودو باش کرنے والوں کے حقوق کو ایک طویل تاخیر کے باوجود تسلیم کیا گیا تھا۔کوترنگ راجوری کے ایک 80 سالہ ولی محمد نے انکشاف کیا کہ کس طرح اِنتظامیہ نے انہیں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کے ہاتھوں ایف آر سی فراہم کرنے میں سہولیت فراہم کی جس کی اُس نے ساری زندگی خواہش کی تھی تاکہ اس کے بھی جنگلاتی زمین اور پیداوار کے حقوق ہوں۔زائد اَز 14برس عرصے کی طویل جدوجہد اور کوششوں کے بعد ہمارے ملک کے آئین اور پارلیمنٹ کی رہنمائی کے مطابق سماجی مساوات اور ہم آہنگی کی بنیادی روح کو ذہن میں رکھتے ہوئے فارسٹ رائٹس ایکٹ 2006 کی عمل آوری سے قبائلی طبقے کو واجب حقوق عطا کئے گئے ہیں۔وزیر اعظم کی رہنمائی میں قبائلی طبقے کوجنگلات کے حقوق سے نوازا گیا ۔ جموںوکشمیر اِنتظامیہ یوٹی میں ایک منصفانہ سماجی نظم قائم کرنے کے نظریات پر بھرپور طریقے سے عمل پیرا تھی۔جموںوکشمیر یوٹی حکومت قبائلی طبقے کو بااِختیار بنانے کے لئے خلوص نیت سے کام کر رہی تھی جو کئی دہائیوں تک ایک ساتھ نظر اَنداز اور امتیازی سلوک کا شکار رہی ۔ان جنگلاتی مکینوں کو جنگل کی زمین پر حقوق دینے سے قبائلیوں اور خانہ بدوش کمیونٹیوں کے 14 لاکھ آبادی کے ایک بڑے حصے کی سماجی و اقتصادی کو ترقی دینے کے لئے تیار ہے جن میں گجر، بکروال اور گڈی سیپی شامل ہیں۔منڈی پونچھ کے سرپنچ ناصر حسین وزیر اعظم نریندر مودی اور لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا کے شکر گزار ہیں کہ اُنہوںنے انہیں جنگل کی زمین پر حق دیا جو ان کا دیرینہ مطالبہ تھا۔اِسی طرح اپرپچوال راجوری کے سرپنچ نے فارسٹ رائٹس ایکٹ کے تحت ایس ٹی کمیونٹی کو روزی روٹی فراہم کرنے کے لئے مرکزی حکومت کا شکریہ اَدا کیا جو گزشتہ 70 برسوں سے زیر اِلتوأ تھا۔یہ لوگ صدیوں سے جنگل کی زمین پر بغیر کسی حق کے جنگلوں میں رہ رہے ہیں لیکن فارسٹ رائٹس ایکٹ کی عمل آوری ان جنگلات میں رہنے والوں کے لئے بہت مدد گار ثابت ہوا ۔ یہ ایکٹ تعصب کو دُور کرنے اور جنگلات اور جنگلی حیات کے تحفظ کے اِنتظام میں حصہ لینے کے لئے کمیو نٹیوں کو بااختیار بنانے کی جانب ایک قدم تھا۔