PMJAY

حکومت جموں وکشمیرکا آیوشمان بھارت اسکیم پرتیزی کیساتھ عمل درآمد

22لاکھ14ہزار192 خاندانوں کے کم از کم ایک شخص کے پاس گولڈن کارڈ

سری نگر//جموں و کشمیر حکومت نے حکومت ہند کی طرف سے شروع کی گئی ’آیوشمان بھارت اسکیم‘ کے تحت 97لاکھ17ہزار471 لوگوں کو رجسٹر کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے جس نے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں صحت کے شعبے میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔اس مرکزی اسکیم سے، لاکھوں غریب لوگ جو ہسپتالوں میں علاج کی استطاعت نہیں رکھتے، اب اپنی صحت کی حالت کے لئے اچھا علاج حاصل کر سکتے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق ایک سرکاری بیان میں کہا گیاکہ آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت جموں و کشمیر میں 97لاکھ17ہزار471 لوگوں کو رجسٹر کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جن میں سے اب تک 75 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو گولڈن کارڈ مل چکے ہیں۔یونین ٹریٹری انتظامیہ نے جموں و کشمیر گولڈ کارڈ مہم شروع کر دی ہے۔اس میں کہا گیا کہ منظور شدہ 25لاکھ5ہزار625خاندانوں میں سے22لاکھ14ہزار192 خاندانوں کے کم از کم ایک شخص ہے جس کے پاس گولڈن کارڈ ہے، جبکہ2لاکھ91ہزار523 خاندانوں میں کوئی بھی تیار نہیں ہوا ہے۔جموں و کشمیر کے دیہی اور شہری علاقوں کے لوگوں کو ہیلتھ اسکیم سے جوڑنے کے لیے گولڈن کارڈ کی تیاری کے عمل کو آسان بنا دیا گیا ہے اور اب لوگ setu.pmjay.gov.in پر جا کر اسے اپنے اور اپنے خاندان کے افراد کے لیے بھی تیار کر سکتے ہیں۔گولڈن کارڈ بنانے کے عمل کو مکمل کرنے کے لئے ایک خصوصی مہم کا بھی اہتمام کیا گیا ہے جو ابھی جاری ہے۔ آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت، حکومت ایک سال میں علاج کے لیے 5 لاکھ روپے تک کی ادویات، ٹیسٹ وغیرہ کا خرچ برداشت کرتی ہے۔ سرکاری اسپتالوں کے علاوہ، کچھ نجی اسپتالوں کو بھی حکومت نے فہرست میں شامل کیا ہے، جہاں مریض آیوشمان بھارت اسکیم کے تحت جاری کردہ ’گولڈن کارڈ‘ دکھا کر مفت علاج حاصل کرسکتے ہیں۔اس اسکیم کو عوام کی طرف سے کافی پذیرائی ملی ہے اور اسے جموں و کشمیر میں سب کے لیے صحت کی دیکھ بھال کے حصول کی طرف ایک بڑا قدم بھی سمجھا جاتا ہے۔