Shopian fruit trader's son tops J&K in NEET-UG 2022, secures all India rank 10

شوپیان کےحازق پرویز نے NEET-UG2022میں جموں وکشمیرکانام روشن کیا

سری نگر//مختلف میڈیکل کورسزکیلئے قومی سطح کے اعلیٰ ترین امتحان NEETیعنی قومی اہلیت وداخلہ ٹیسٹ کے نتائج کااعلان نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے جمعرات کو کیا جس میں راجستھان کی تنیشکا نامی طالبہ نے میڈیکل داخلہ کے امتحان میں کامیاب ہونے والے9 لاکھ93ہزار سے زیادہ اُمیدواروں میں ٹاپ رینک یعنی امتیازی پوزیشن حاصل کی۔شوپیان کے ایک ہونہار طالب علم حازق پرویز لون نے پہلے ٹاپ10میں جگہ حاصل کرکے جموں وکشمیرکانام روشن کیا جبکہ حاجن بانڈی پورہ کے پُرعزم طالب علم محمدندیم نے 603نمبرات حاصل کرکےNEET-2022کے امتحان میں چوتھی مرتبہ قسمت آماتے ہوئے کامیابی پائی ۔جے کے این ایس کے مطابق نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی کی جانب سے جمعرات کوNEETکے نتایج منظرعام پرلائے گئے ۔قومی سطح کے اس امتحان میں کل17لاکھ64ہزار اُمیدواروں (طلباء وطالبات ) نے حصہ لیا،جن میں سے 9 لاکھ93ہزار سے زیادہ اُمیدواروں نے کامیابی حاصل کرکے ایم بی بی ایس اوردیگرمیڈیکل کورسزکیلئے اپنی سیٹ پکی کردی ۔ راجستھان کی تنیشکا نامی طالبہ نے99فیصد سے زیادہ نمبرات لیکر پوری ملک میں امتیازی پوزیشن پر قبضہ جمایا،دہلی کے وتسا آشیش بترا اور کرناٹک کے ہرشیکیش ناگ بھوشن گنگولے نے بالترتیب دوسرا اور تیسرا مقام حاصل کیا۔امتحان میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کی سب سے زیادہ تعداد اتر پردیش (ایک لاکھ17ہزار) سے ہے، اس کے بعد مہاراشٹر (ایک لاکھ13ہزار) اور راجستھان (82ہزار548) ہیں۔ملک بھر کے 497 شہروں اور ہندوستان سے باہر کے 14 شہروں میں3570 مختلف مراکز پر17 جولائی2022 کو ہونے والے داخلہ امتحان میں تقریباً 95 فیصد اُمیدواروں نے شرکت کی۔قومی سطح کایہ اہم ترین امتحان 13 زبانوں ، آسامی، بنگالی، انگریزی، گجراتی، ہندی، کنڑ، ملیالم، مراٹھی، اوڈیا، پنجابی، تامل، تیلگو اور اردومیں لیا گیا تھا۔پہلی بار یہ امتحان ابوظہبی، بنکاک، کولمبو، دوحہ، کھٹمنڈو، کوالالمپور، لاگوس، مناما، مسقط، ریاض، شارجہ، سنگاپور کے ساتھ دبئی اور کویت شہر میں بھی لیا گیا۔جنوبی کشمیر کے پہاڑی ضلع شوپیان کے ایک ہونہار طالب علم حازق پرویز لون نے پہلے ٹاپ10میں جگہ حاصل کرکے جموں وکشمیرکانام روشن کیا ۔پیشے یاکاروبار سے پھل تاجر یا میوہ بیوپاری پرویز احمدلون کے ہونہار فرزند حازق پرویز نے720 میں سے 710 پوائنٹس حاصل کرکے آل انڈیا سطح کےNEET-UG2022کے امتحان میں 10ویں رینک حاصل کی جبکہ وہ جموں وکشمیر میں پہلی پوزیشن پررہے ۔ NEET-UG2022امتحان میں 10 واں رینک حاصل کیا ۔اس شاندار کامیابی پر ہونہار طالب علم حازق پرویز ساکنہ ترنز شوپیان کافوری ردعمل میں کہناتھاکہ ’’میں توقع کر رہا تھا کہ میں NEET میں کامیابی حاصل کروں گا لیکن10 واں رینک حاصل کرنا میری توقعات سے باہر تھا۔اس شرمیلے سے کل کے ڈاکٹر نے کہاکہ مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں ٹاپ10 کی فہرست میں شامل ہوں۔حازق کے والد پرویز لون پھلوں کے تاجر ہیں جبکہ ان کی والدہ گھریلو خاتون ہیں۔ حاذق نے اپنی کامیابی کا سہرا اپنے والدین اور اساتذہ کو دیا۔اُس نے کہاکہ میں اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے کامیابی سے نوازا۔ میری کامیابی والدین اور آکاش انسٹی ٹیوٹ سری نگر کے اساتذہ کے تعاون اور کوششوں کے بغیر ممکن نہیں تھی، خاص طور پر روہن جین جنہوں نے ہمیں وہاں فزکس پڑھایا۔حاذق نے آٹھویں جماعت تک ڈولفن پبلک سکول پلوامہ میں تعلیم حاصل کی اور پھر شاہ ہمدان پبلک سکول شوپیاں میں شفٹ ہو گئے۔10ویں جماعت کا امتحان پاس کرنے کے بعد، وہ 11ویں اور12ویں جماعت کے لیے گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول ترکوانگام شوپیاں میں داخل ہوا۔ حاذق نے کہا کہ اگر آپ مستقل مزاج اور محنتی ہیں تو کچھ بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ مستقبل کے خواہشمندوں کو میرا مشورہ ہے کہ وہ مستقل مزاجی سے رہیں اور کسی بھی کارنامے کو حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کریں۔ حاذق نے کہا کہ وہ نیورولوجی میں مہارت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔اُدھر شمالی کشمیر کے ضلع بانڈی پورہ کے علاقہ حاجن کے ایک مستقل مزاج اورپُرعزم طالب علم محمد ندیم نے چوتھی کوشش کے بعد603نمبرات حاصل کرکے NEETمیں کوالیفائی کیا۔محمد ندیم ولد عبدالرحمن ڈار ساکن حاجن نے 603 نمبر حاصل کر کے NEET-UG2022کے لیے کوالیفائی کیا ۔ ندیم نے کہا کہ ان کی محنت اور خاندان خصوصاً ان کے والدین اور چچازادبھائیوں کے تعاون کی وجہ سے ہی وہ اس باوقار امتحان میں کامیاب ہوئے ہیں۔ندیم نے بھی اس کا میابی کاکریڈٹ اپنے اساتذہ کو دیا اور کہا کہ ان کے تعاون کے بغیر ان کے لیے امتحان میں کامیابی حاصل کرنا ممکن نہیں تھا۔اُس کاکہناتھاکہ میں اللہ تعالی کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے کامیابی سے نوازا کیونکہ یہ ایک خواب تھا جو آج پورا ہوا۔ندیم کاکہناتھاکہ اس سے پہلے میں نے NEETمیں کامیابی کیلئے کی تین کوششیں کیں، تاہم، اللہ کی مرضی نہیں تھی لیکن میں نے اُمید نہیں ہاری اور چوتھی کوشش میں اسے ممکن بنایا۔ندیم نے اپنی اسکول کی تعلیم اپنے علاقے کے سرکاری اسکول سے12ویں جماعت تک کی ہے اور پھرNEETکے امتحان میں شامل ہونے کیلئے کوچنگ کے مقصد کے لیے سری نگر چلا گیا، کیونکہ اس کا مقصد بچپن سے ہی ڈاکٹر بننا تھا۔ندیم کاکہناتھاکہ آج، اللہ کے فضل اور اپنے خاندان اور اساتذہ کے تعاون سے، میرا خواب پورا ہو گیا ہے۔