جموں وکشمیر کوامن زون بنانے کااعلان کریں:محبوبہ مفتی کی وزیراعظم نریندر مودی سے اپیل

2016کی مذاکراتی پہل کوعلیحدگی پسندوںنے دروازہ نہ کھول کر بنادیا ناکام ،مذاکرات واحدراستہ

سری نگر//جموں و کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی جمعرات کو سری نگر میں پارٹی کے23ویں یوم تاسیس منانے کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی سے جموں و کشمیر کو امن زون قرار دینے اور لائن آف کنٹرول کے آ پار تمام راستے کھول کر اور ہر رکن ملک کو خطے میں سرمایہ کاری کرنے کی اجازت دے کر جموں وکشمیر کو سارک تعاون کا نمونہ بنانے کی اپیل کی۔ جے کے این ایس کے مطابق پی ڈی پی کے 23 ویں یوم تاسیس کے موقع پر یہاں شیر کشمیر پارک میں اپنی تقریر میں، محبوبہ مفتی نے یہ بھی کہا کہ جموں و کشمیر کے مسئلے کو حل کرنے کیلئے بات چیت کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔انہوں نے کہا’’میں آپ (وزیراعظم مودی) سے درخواست کرتی ہوں کہ جموں کشمیر جس کا نام آپ پاکستان کے نام کے ساتھ لینے سے ڈرتے ہیں، انگریزی میں ایک کہاوت ہے’کیچ دی بیل بائے دی ہارنز‘، اس جموں و کشمیر کے دونوں حصوں کو سارک تعاون کا نمونہ بنائیں۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ دونوں بھارت اورپاکستان جموں کشمیر کو امن کا علاقہ قرار دیں اور تمام سارک ممالک کو یہاں سرمایہ کاری کرنے دیں۔ اُنہیں یہاں اپنے بینک کھولنے دیں، ان کی دستکاری کی یونیورسٹیاں کھولی جائیں، ہر ایک کو آزادانہ نقل و حرکت کی اجازت دی جائے، تمام راستے کھول دیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان تجارت پنجاب میں واہگہ بارڈر پر ہوتی ہے لیکن جموں و کشمیر میں اسے معطل کر دیا گیا تھا۔پی ڈی پی صدر نے سوالیہ اندازمیں کہاکہ ’’کیا ہم نے کبھی سنا ہے کہ پنجاب کی سرحد پر فائرنگ ہوئی ہے یا گجرات کی سرحد یا راجستھان کی سرحد پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی ہے؟ نہیں، یہ صرف جموں وکشمیر میں سرحدوں پر ہوتا ہے۔انہوںنے کہاکہ جموں و کشمیر کے اندر بھی جنگ ہے۔ ایک طرف فوج کے دس لاکھ جوان اور دوسری طرف بندوقوں والے نوجوان۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ آپ کو یہ مسئلہ حل کرنا پڑے گا اور اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔انہوں نے وزیر اعظم سے یہ بھی کہا کہ وہ جموں و کشمیر کو وسطی اور جنوبی ایشیا کا گیٹ وے بنائیں۔انہوںنے کہاکہ پاکستان اور چین نے کہا ہے کہ تمام ممالک CPEC کا حصہ بن سکتے ہیں – ایک ایسا راستہ جو دوسرے جموں وکشمیرسے ہوتا ہوا وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا تک جاتا ہے۔ محبوبہ مفتی نے وزیراعظم سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ آپ نے فرمایا کہ یہ مت کرو، لیکن وہ کریں گے اور وہ باز نہیں آئیں گے کیونکہ آپ نے ایسا کہا تھا۔ جب انہوں نے ایسا کہا تو کیا آپ نے آرٹیکل370 کو ختم کرنے سے روک دیا؟ نہیں آپ نے آگے بڑھ کر یہاں سب کچھ برباد کر دیا۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ دوسرا جموں وکشمیر (پاکستانی زیر کنٹرول کشمیر) خوش قسمت ہے کہ اس کی اسٹریٹجک پوزیشن کو وسطی اور جنوبی ایشیا کا گیٹ وے بننے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔انہوںنے کہاکہ آپ اس جموں کشمیر کے راستے کیوں نہیں کھولتے؟ کیوں نہ اسے وسطی اور جنوبی ایشیا کا گیٹ وے بنایا جائے؟ جموں سے شروع کریں، وادی تک پہنچیں اور پھر لداخ – سنکیانگ، یارکھنڈ، کارگل-سکردو، بانڈی پورہ-استور، ہم آپ کو بتا رہے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔محبوبہ مفتی نے وزیر اعظم مودی سے ملک بھر کی مختلف جیلوں میں بند تمام کشمیری نوجوانوں کو عام معافی دینے کی بھی اپیل کی۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ ان کے دور اقتدار میں انہوں نے 12 ہزار نوجوانوں کے مقدمے کالعدم کرائے، لیکن آج دیکھئے ہمارے نوجوان بیرونی ریاستوں کے جیلوں میں قید ہیں اور ان کے اہل خانہ کو ان کے متعلق کوئی جانکاری نہیں ہے، کہ ان کے بچے کہاں ہیں۔انہوں نے کہاکہ جب مفتی سعید وزیر اعلی تھے، اس دوران علیحدگی پسندوں نے مرکزی سرکار سے بات چیت کی، قیدیوں کو رہا کیا گیا جس سے کشمیر میں امن بحال ہوا اور لوگوں کو راحت ملی۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ ہمارے اقتدار کے دوران تعمیر و ترقی بڑی پیمانے پر ہوئی، پوٹا قانون کو ختم کیا گیا۔ مفتی سعید کے اقتدار کے دوران بھارت اور پاکستان نے مسئلہ کشمیر پر مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی نے کہاکہ2014 میں ہم نے بی جے پی کیساتھ مخلوط سرکار اس لئے بنائی کیوں کہ مرحوم مفتی سعید چاہتے تھے کہ بی جے پی کے مشن دفعہ370 کی منسوخی پر لگام لگے۔محبوبہ مفتی نے اپنے خطاب میں کہاکہ مجھے اس وقت کرسی کی تمنا نہیں ہے، نہ اس سے قبل تھی۔ انہوں نے کہاکہ ان2برسوں کے اقتدار کے دوران پتھر بازی شروع ہوئی اور اس کے باوجود بھی انہوں نے بی جے پی اور دیگر بڑے لیڈران کا وفد کشمیر لایا تاکہ وہ عوام اور علیحدگی پسند رہنماؤں کے ساتھ مذاکرات کرے۔ لیکن علیحدگی پسندوں نے ان کے خط کا جواب نہیں دیا۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ علیحدگی پسندوں کے ٹھکرانے کے باوجود بھی یہ وفد ان کے دروازے پر گئے، لیکن انہوں نے دروازہ نہیں کھولا۔انہوں نے کہاکہ آج ہماری زمین بیرونی صنعت کاروں کو دی جارہی ہے، لیکن کشمیری لوگوں سے کاہ چرائے کی زمین بھی واپس لی جارہی ہے، جبکہ اسکولوں کی زمین بھی چھینی جارہی ہے۔ لوگوں کو نوکریوں سے نکالا جارہا ہے۔محبوبہ مفتی نے عوام سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ لیکن حالات ایسے نہیں رہیں گے۔ انہوںنے کہاکہ میں وزیر اعظم نریندر مودی سے کہتی ہوں کہ آپ ملک کو ’وشو گرو‘ بنانے کی باتیں کرتے ہیں، لیکن پہلے آپ اپنا گھر سنبھالیں، وشو گرو کا راستہ کشمیر سے ہوکر نکلتا ہے۔ پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی کے بقول جب تک آپ (وزیراعظم مودی)جموں و کشمیر کا مسئلہ حل نہیں کرو گے تب تک ملک ’’ویشو گرو ‘‘ نہیں بنے گا۔انہوںنے وزیراعظم سے مخاطب ہوکرکہاکہ جب آپ اپنے ہمسایوں میں گرو نہیں بنو گے تو پھر ویشو گرو کیسے بنو گے۔ محبوبہ مفتی نے کہاکہ ہم جموں و کشمیر کے لوگوں کے لئے وقار کے ساتھ مفتی صاحب کے امن کے تصور کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے۔ بتادیں کہ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جنوبی کشمیر کے اننت ناگ سمیت وادی کے مختلف علاقے میں تقریبات اہتمام کیا جارہا ہے۔ تقریبات میں پی ڈی پی لیڈروں نے مسئلے کشمیر کا حل اور امن بحالی کے پر زور دیا ۔ قابل ذکر ہے کہ پی ڈی پی دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد پہلی مرتبہ اس برح بڑے پیمانے پر تقریبات کا اہتمام کررہی ہے، اس قبل پی ٹی پی کو اتنے بڑے پیمانے یوم تاسیس منانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ تقریبات کو پر امن طریقے سے انجام دینے کے لیے انتظامیہ نے سخت سیکورٹی انتظامات کئے ہیں۔