علاج سے بہتر احتیاط کی دھجیاں اُڑ رہی ہے سرکارکی خاموشی حیران کن /ماہرین
سرینگر//وبائی بیماری کے تیور ہر گزرتے دن کے ساتھ جموںوکشمیر میں سخت ہوتے جارہے ہے اور وادی کشمیرمیں سب سے زیادہ کیس سری نگر ضلع سے سامنے آ رہے ہیں ۔ ماہرین کایہ ماننا ہے کہ شہرسرینگر میں جہاں لوگوں کاعمل دخل زیادہ ہے وہاں گائڈ لائن کی بھی بڑے پیمانے پر خلاف ورزی بھی ہورہی ہے جوآ نے والے دنوں کے لئے انتہائی خطرناک صورت اختیار کر نے کی عکاسی ہے ۔کسی بھی صورت میں گائڈ لائن کوبڑے شہروں قصبوں میں اپنانے کی ضرورت محسوس نہیں کی جارہی ہے اور کروناوائرس کے بوسٹرڈوز یا14سال تک کے بچوں کوکرونا ٹیکے لگانے کے ضمن میں بھی سست رفتاری کامظاہراہ کیاجارہاہے جو خطرے کی علامت ہے ۔اے پی آ ئی نیوز ڈیسک کے مطابق طبعی ماہرین نے جموں وکشمیرکے حوالے سے ایک دفعہ پھر اس بات پرتشویش کا اظہار کیاہے کہ جموں وکشمیرمیں کرناوائرس وبائی بیماری تیزی کے ساتھ پھیل رہی ہے اور آبادی کے لحاظ سے جومثبت تیسٹ سامنے آ رہے ہے وہ تشویش ناک ہے ۔ماہرین کے مطابق 26جولائی کو690کے قریب افراد کا ٹیسٹ مثبت آ نا اس بات کی نشانی ہے کہ وبائی بیماری میں مبتلا افراد کی تعداد اس سے کئی زیادہ ہوگی یہ تو وہ لوگ ہے جوٹیسٹ کرانے کے لئے اسپتالوں کارُخ کررہے ہیں اور جولوگ اس وبائی بیماری میں مبتلاہے اور ٹیسٹ نہیں کراتے ہے وہ تو سب سے زیادہ خطرہ ثابت ہو رہے ہیں۔ماہرین کے مطابق سرکاری دفتروں، تفریحی پارکوں ،ہوٹلوں ،کیفوں ،ریسٹورنٹوں، شادی بیاہ کی تقریبات تعزیتی مجالس سیاسی اجتماعات کا ایک نہ تھمنے والاسلسلہ شر وع ہوچکاہے او راس دوران وبائی بیماری کے تیور بھی تخت ہونے جارہے ہے کئی سرکار کی جانب سے گاٗئڈ لائن کواپنانے کی تلقین نہیں کی جاہی ہے گائڈ لائن کی دھجیاں اڑانے کی کھلی اجازت ہے ۔ماہرین کے مطابق بوسٹرڈوز اور 14سال تک کے عمر کے بچوں کوکروناوائرس کے ٹیکے کے زمرے میں لانے میں بھی غیرسنجیدگی کامظاہراہ کیاجارہاہے جو المیہ ہے۔ سرکار کسی بھی صورت میں سنجیدہ دکھائی نہیں دے رہی ۔اگرسات سو کے قریب مثبت افراد کی تعداد پہنچ گئی ہے تو یہ آنے والے دنوں کے دوران ایک ہزار سے تجاوز کر جائیگی ۔اسپتالوں میں اس وبائی بیماری سے نمٹنے کے لئے کوئی تیاری نہیں ہے ۔ماہرین کے مطابق سرکار کواب سنجیدہ ہوناہوگا یہ وباء لوگوں کے ساتھ ہیں، مزدوری لازمی ہے کاروبار اہمیت کاحامل ہے لیکن ا سکے ساتھ ساتھ اگر اس وبائی بیماری سے نمٹنے کیلئے احتیاط کے بارے میں پہلے ہی جانکاری فراہم کی گئی ہے تو اس احتیاط پرعمل کرانے کے لئے اگر سرکار غیرسنجیدہ ہوتو اس سے بڑا افسوس اور کیاہوگا۔










