تمام تحصیلداروں کوہدایت، دفاتر میں آف لائن کوئی بھی درخواست قبول نہ کریں

Eآفس بہتر قدم لیکن بیشتر دفاتر میں آن لائن اجرائی کاتاحال کوئی انتظام نہیں:لوگ

سرینگر//ایک سرکاری حکم نامے کے مطابق تمام تحصیلداروں کو اپنے اپنے دفاتر میں انتظامیہ کی جانب سے کوئی بھی درخواست آف لائن قبول نہیں کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔اس دوران جہاں لوگ اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہیںوہی دوسری جانب بیشتر سرکاری دفاتر میں اس حوالے سے آن لائن اسناد یا دیگر اقسام کے کاغزات فراہم کرنے کا کوئی بھی انتطام نہیں ہے جس کی وجہ سے مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم بچوں کو الگ الگ اقسام کے اسناد فراہم کرنے کے علاوہ مختلف قسم کے سکالر شپ کے لئے درکار انکم سرٹیفکیٹ فراہم کرنے کا سلسلہ رک گیا ہے اور ساری صورتحال کی وجہ سے مزکورہ لوگوں کو طرح طرح کی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ غلام محمد نامی ایک شہری نے بتایا سرکار کی جانب سے یہ بہترین قدم عوامی سہولیات کے لئے اٹھایا گیا ہے لیکن کشمیر کے بیشتر تحصیل دفاتر میں ابھی افسران کو بھی اس حوالے سے کوئی جانکاری نہیں ہے اور ناہی افراد قوت اور نہ انفر اسٹریکچرموجود ہے جس کے باعث سرکار یہ قدم بنا زمینی صورتحال کو دیکھ کر عوما کے لئے بے سود ثابت ہو ا ہے ۔ ایک طالب علم مبشر احمد نے بتایا انہیں ایڈمشن کرنا تھا جس کے لئے انہیں بیکوارڑ سرٹیفکیٹ ساتھ رکھنا تھا تاکہ فیس اور سلیکشن میں کسی حد تک فائدہ ملتا ۔انہوں نے بتایا لوگ آن لائن اپنا درخواست داخل کرتے ہیں جس کے لئے ان سے 100سے200روپے فیس لیتے ہیں اور جب ہم ہارڑ کاپی کے لئے دفتر جاتے ہیں وہاں کسی کو بھی معلوم نہیں انہیں کاغذات کس طرح ملیں گے،کسی کو کوئی علمیت نہیں ہے جبکہ افسران نے بھی حکام کے احکامات پر من و عن عمل کر کے آف لائن کام کاج بند کیا ہے ایک تحصیل دفتر میںکام کرنے والے عملے نے بتایا ہم بے بس ہیں کیوںکہ ابھی تک یہاں کوئی انتظام نہیں ہے ۔اس دوران لوگوں نے شکایت کی ہے کہ اس جلد بازی کے اقدام سے لوگوں خاص کر طلباء کو فائدے کے بجائے نقصان پہنچا ہے ۔انہوں نے انتظامیہ میں شامل اعلیٰ حکام سے خاص کر ایل جی جموں و کشمیر سے اس حوالے سے مداخلت کی اپیل کی ہے کہ اس عمل کے لئے بنیادی ڈانچہ مکمل طور تیار کرنے کے بعد تحصیلداروں اس حکمانے پر عمل کرنے کی ہدایت کی جائے تاکہ لوگوں کو کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔