بجلی شعبے میں نمایاں بہتری سے پورا ہو رہا ہے،2019ء سے اَب تک 2,451 ایم وِی اے کا اِضافہ کیا گیا
سری نگر//جموںوکشمیر حکومت کی پُر عزم کوششوں نے گذشتہ کئی برسوں میں اِس بات کو یقینی بنایا ہے کہ جموںوکشمیر کے ہر شہری کو موسم کی تبدیلیوں اور دشوار گذار علاقوںمیںبجلی کی فراہمی کا خواب پورا کیا جائے۔ جموںوکشمیر یوٹی اِنتظامیہ نے اِس بات کو یقینی بنایا ہے کہ عام شہریوں کو معیاری سڑکوں ، بجلی اور پانی کی بنیادی ضرورتوں تک ترجیحی بنیادوں پر رَسائی حاصل ہو۔ اِنتظامیہ کا مقصد تمام شہریوں اور کاروباری اِداروں کو معیاری بجلی فراہم کرنا ہے اور یہ اِضافی سہولیات بڑھتی ہوئی معیشت کی اہم ضرورت کو پورا کریں گی۔جموںوکشمیر نے بجلی کے موجودہ خسارے کو پورا کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر صلاحیت بڑھانے کا پروگرام شروع کیا ہے ۔ جموںوکشمیر 70 برسوں میں صرف 3,500 میگاواٹ کا اِستعمال کرنے کے قابل تھا اور اَب پیداوار کی صلاحیت کو چار برسوں میں دوگنا اور سات برسوں میں تین گنا کرنے کا اِرادہ ہے۔فی الحال 2,000کروڑ روپے کے ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن پروجیکٹ مکمل کئے جارہے ہیں اور مرکزی حکومت کی طرف سے جموںوکشمیر یوٹی میں ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کومستحکم کرنے کے لئے 6,000 کروڑ روپے کی اِضافی رقم مختص کی گئی ہے ۔ اِس سے اِنتظامیہ کو شہروں اور دیہاتوں کے درمیان بنیادی ڈھانچے کے فرق کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ اگست 2019ء سے سات دہائیوں میں حاصل کی گئی 8,394 ایم وِی اے صلاحیت کے مقابلے میں کُل صلاحیت میں 2,451 ایم وِی اے کا اِضافہ کیا گیا ہے ۔ جموںوکشمیر حکومت نے یوٹی میں بجلی کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط اور بہتر بنانے کے لئے مختلف اقدامات شروع کئے ہیں۔بجلی کے بنیادی ڈھانچے کی دہائیوں سے اِلتوأ میں پڑی اَپ گریڈیشن جسے یکے بعد دیگرے حکومتوں نے نظر اَنداز کیا تھا مستقل طریقے سے عمل کیا جارہا ہے ۔ ایک سینئر آفیسر نے کہا کہ موجودہ اِنتظامیہ کی کوششوں سے طویل عرصے سے لٹکے ہوئے تمام منصوبوں کو ریکارڈ مدت میں مکمل کیا جارہا ہے۔جموںوکشمیرکو پن بجلی صلاحیت سے نوازا گیا ہے جن میں سے 14,867 میگاواٹ کی نشاندہی سینٹر الیکٹرسٹی اَتھارٹی نے پہلے ہی کی ہے ۔ جموںوکشمیر اگلے تین برسوں میں ہائیڈرو پاور جنریشن کی صلاحیت کو موجودہ 3,500 میگاواٹ ے دوگنا کرنے کے لئے تیار ہے۔اِس سمت میں پانچ میگا ہائیڈرو پاور پروجیکٹس جیسے رتلے ( 824میگاواٹ ) ، کیر تھائی ۔ دوم (930 میگاواٹ) سوالاکوٹ ( 1,856 میگاواٹ ) ، ڈلہستی مرحلہ دوم ( 258میگاواٹ ) اور اوڑی مرحلہ اوّل ، مرحلہ دوم ( 240 میگاواٹ ، این ایچ پی سی کے اِشتراک سے 4,134 میگاواٹ کی کُل صلاحیت کی تکمیل کی گئی ہے ۔اِن پروجیکٹوں میں ممکنہ سرمایہ کاری 34,882 کروڑ روپے ہے اور اِس کی تکمیل سے جموںوکشمیر بجلی سرپلس ہوجائے گا۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ جموںوکشمیر نے پردھان منتری سہج بجلی ہر گھر یوجنا ’’ سوبھاگیہ‘‘ کے تحت ایک اہم سنگ میل حاصل کیا اور جموںوکشمیر یوٹی نے دیہی بجلی کاری کے صد فیصد ہدف کو پورا کیا۔جموں وکشمیر اِنتظامیہ نے ہرگائوں میں بجلی کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے فعال طور پر کام کیا ہے جو اِس حقیقت سے ظاہر ہوتا ہے کہ جموںوکشمیر یوٹی میں تقریباً 3,57,405 گھرانوں کو بجلی فراہم کی گئی ہے ۔ جموںوکشمیر کو مرکزی حکومت سے 100کروڑ روپے کا انعام بھی ملا ہے تاکہ مقررہ وقت سے پہلے صد فیصد برقی کاری کا ہدف حاصل کیا جاسکے۔جموں وکشمیر پاور ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ پروجیکٹ منصوبہ بندی اور اور عمل در آمد میں نئے معیارات قائم کر رہا ہے ۔ یہ اِقدامات نہ صرف موسم کے دوران بجلی کے بحران کو حل کریں گے بلکہ جموںوکشمیر یوٹی میں نئی صنعتیں کھولنے کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرتے ہوئے روزگار کے بہت سے مواقع پیدا ہوں گے۔پاور ڈیپارٹمنٹ نے جدید ترین اِی ۔ سپورٹ سسٹمز سے فیڈ ر ڈیٹا مانیٹرنگ متعارف کیا جس سے تمام فیڈروں کے لئے اے ٹی اینڈ سی کے نقصانات اور بجلی کے قابلِ اعتماد اشاریوں تک براہِ راست رسائی اورمانیٹرنگ میں مدد ملے گی۔










