جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ میں گزشتہ تین برسوں کے دوران 12جنگجو جاں بحق

2020اور2021میں ملی ٹنسی کے473واقعات

182سیکورٹی اہلکار اورعام شہری ازجان،223اہلکار اور187عام شہری زخمی : مرکزی وزیرمملکت

سری نگر// مرکزی وزیرمملکت برائے امورداخلہ نتیا نند رائے نے منگل کے روز کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشترکہ اور مربوط کوششوں کی وجہ سے، جموں وکشمیر میں ملی ٹنسی سے متعلق تشدد پر کافی حد تک قابو پایا گیا ہے۔تاہم انہوںنے کہاکہ سال 2020اور2021میں ملی ٹنسی سے جڑے تشددکے واقعات میں182سیکورٹی اہلکار اورعام شہری ازجان ہوئے جبکہ 410اہلکار اورشہری زخمی ہوئے ہیں۔جے کے این ایس کے مطابق کے مطابق لوک سبھامیں ایک ممبر کے سوال کاجواب دیتے ہوئے مرکزی وزیرمملکت برائے امورداخلہ نتیا نند رائے نے کہا کہ گزشتہ سال یعنی2021 جموں و کشمیر میں عملی ٹنسی سے متعلق 229 واقعات ہوئے جن میں 42 سیکورٹی اہلکار اور 41 عام شہری مارے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 2021 کے دوران117 سیکورٹی اہلکار اور 75 شہری زخمی ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ2020میں جموں و کشمیر میں ملی ٹنسی سے متعلق 244 واقعات ہوئے جن میں62 سیکورٹی اہلکار اور 37 عام شہری مارے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سال میں106 سیکورٹی اہلکار اور 112 شہری زخمی ہوئے۔انہوں نے پارلیمنٹرین کے اس سوال پر نفی میں جواب دیا کہ کیا یہ حقیقت ہے کہ ملی ٹنٹوں کے حملوں کے واقعات بڑھ رہے ہیں۔ مرکزی وزیرمملکت برائے امورداخلہ نے کہاکہ ملی ٹنسی اوراسکے خلاف کارروائیوںایک مسلسل عمل ہے۔ حکومت نے اس سلسلے میں مختلف اقدامات اٹھائے ہیں جن میں قانونی ڈھانچہ کو مضبوط کرنا، انٹیلی جنس میکانزم کو ہموار کرنا، ملی ٹنسی سے متعلق مقدمات کی تحقیقات اور پراسیکیوشن یعنی استغاثہ کے لئے نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسیNIA کا قیام، نیشنل سیکورٹی گارڈزNSG کے مختلف مراکز،سرحدی اور ساحلی حفاظت کو بڑھانا، پولیس فورسز کی جدید کاری اور ریاستی پولیس فورسز کی استعداد کار میں اضافہ وغیرہ شامل ہیں۔