قومی تعلیمی پالیسی کو لاگو کرنے کیلئے حکمت عملی پر جام جاری سال 2030تک مکمل طور پر رائج کی جائیگی / ناظم تعلیم کشمیر
سرینگر //’’اسکول چلیںہم مہم ‘‘کے تحت ہر بچے کو اسکول تک پہنچانے کیلئے محکمہ تعلیم کی کوششیں جاری ہے کی بات کرتے ہوئے ناظم تعلیم کشمیر ڈاکٹر تصدیق حسین میر نے کہا کہ قومی تعلیمی پالیسی کو لاگو کرنے کیلئے کام جاری ہے اور سال 2030تک اس کو مکمل طور پر رائج کیا جا جائے گا ۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ کووڈ کے بڑھتے کیسوں کے پیش نظر اسکولوں میںتمام احتیاطی تدابیر گئی ہے ۔ سی این آئی کے مطابق سرینگر میں ایک تقریب کے حاشیہ پر میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ناظم تعلیم کشمیر ڈاکٹر تصدیق حسین میر نے کہا کہ محکمہ تعلیم کی کوششیں ہے کہ کشمیر کا ہر بچہ اسکول تک پہنچے ۔ انہوں نے کہا کہ اسکول چلیں مہم کے تحت ہم اس بات کو یقینی بنا رہے کہ کوئی بھی بچہ گھر میں کسی بھی وجوہات کی بنا پر نہ رہیں اور وہ اسکول کا رخ کر سکے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ کووڈ کی وجہ سے کچھ بچوںکو فیس کی ادائیگی میںمشکلات کا سامنا تھا جس کے بعد وہ پروائیوٹ اسکولوں میں داخلہ نہ لے سکے اور ہم نے اس کوشش کے تحت سرکاری اسکولوں میں ان کے داخلے کو یقینی بنایا جبکہ ساتھ ہی کوئی جسمانی طور پر معذور ہو یا کوئی بچی پڑھائی کے اخراجات اٹھانے سے قاصر تھی جس کیلئے ہم نے سرکاری اسکولوں میںیہ داخلہ مہم شروع کر دی ۔ نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020کے بارے میںپوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں ناظم تعلیم کشمیر ڈاکٹر میر نے کہا کہ اس پالیسی کو لاگو کرنے کیلئے کام ہو رہا ہے جس کیلئے تمام فرم ورک تشکیل دینے کے علاوہ ایک گول منتخب کیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس پالیسی کو مکمل طور پر لاگو کرنے کیلئے ایک لائحہ عمل مرتب دی جا چکی ہے اور اس پر کام ہو رہا ہے جبکہ اس پالیسی کو لاگو کرنے کیلئے سال 2030ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے اور ہمیں امید ہے کہ اس سال تک اس پالیسی کو کشمیر میں مکمل طور پر لاگو کیا جائے گا ۔ کووڈ کے بڑھتے کیسوں کے بارے میںپوچھے گئے ایک اور سوال کے جواب میں ڈاکٹر میر نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں میں ہم کووڈ کے ساتھ ہی جیتے آئیں ہے اور اس سلسلے میںگھبرانے کی کوئی ضرورت نہیںہے کیونکہ اسکولوںمیںبچوںکو کووڈ سے پاک رکھنے کیلئے تمام احتیاطی تدابیر اٹھائی گئی ہے جس میں سماجی دوری کا خاص خیال ، سنٹائزیشن اور دیگر جو بھی ایس او پیز ہے ان پر عمل کیا جا رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ فی الوقت ایسی کوئی خطرناک صورتحال نہیںہے اور اگر آئندہ ایسا کچھ ہوا تو 50فیصدی حاضری پر بھی غور کیا جا سکتا ہے ۔










