دونوں ممالک کے فوجی افسران نے سرحد کے قریب فوجی جمائو اور کشیدگی کم کرنے پر دیا زور
سرینگر//لداخ میں ہند چین سرحدی کشیدگی کو کم کرنے کیلئے بھارت اور چین دونوں ممالک کے درمیان فوجی مذاکرات کا 16 واں دور حقیقی کنٹرول لائن پر بھارت کے حصے میںمنعقد ہوا جس میں ہند چین سرحدی کشیدگی کو کم کرنے اور فوجی جمائو کو کم کرنے کیلئے باہمی اعتماد بحال کرنے پر زور دیا گیا ۔ دونوں ممالک کے مابین بات چیت کا دورہ پُر امن ماحول میں گزارا اور دنوں نے کشیدگی کے خاتمہ کیلئے کوششوں پر بات کی ۔ سی این آئی مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق لداخ میں سرحدی کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے ہندوستان اور چین کے مابین کارپس کمانڈروں کی میٹنگ کا ایک اور مرحلہ منعقد ہوا ۔جس میں لداخ میں حقیقی لائن آف کنٹرول پر کشیدگی کو ختم کرنے اور سرحد پر فوجی جمائو میں کمی کرنے پر زور دیاجائے گیا جبکہ بات چیت کا محور دونوں جانب اعتماد سازی کی بحالی اور خطے میں امن کا قیام پر بات ہوئی ۔ مشرقی لداخ میں حقیقی کنٹرول لائن کے ساتھ علیحدگی پر بات چیت کے تسلسل میں، مذاکرات کا 16 واں دورچشول-مولڈو میٹنگ پوائنٹ پر ہوا ۔ بھارت کی جناب سے 14کارپس کمانڈر لفٹنٹ جنرل ہرندر سنگھ قیادت کر رہے تھے جبکہ چینی فوج کی جانب سے ان کے ہم منصب بات چیت میں شامل ہوئے ۔ اس موقعہ پر بھارت اور چین دونوں ممالک کے درمیان فوجی مذاکرات کا 16 واں دور حقیقی کنٹرول لائن پر بھارت کے حصے میںمنعقد ہوا جس میں ہند چین سرحدی کشیدگی کو کم کرنے اور فوجی جمائو کو کم کرنے کیلئے باہمی اعتماد بحال کرنے پر زور دیا گیا ۔ یاد رہے کہ گزشتہ برس ماہ جون سے ہندوستان اور چین کے مابین شدید کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ چین نے لداخ کے گلوان علاقے میں بھارتی فوج کے قریب 20اہلکاروں کو زیر چوب ہلاک کیا تھا جبکہ اس ہاتھ آپائی میں چین کے متعدد فوجی بھی ہلاک ہوئے تھے اس واقعے کے بعد دونوں جانب شدید تنائو بڑھ گیا یہاں تک کہ دونوں ممالک کے وزرائے دفاع کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات و جوابی الزامات کا دور بھی چل گیا لیکن اب معاملہ کافی سدھر گیا ہے اور دونوں ممالک اس بات پر متفق ہوتے نظر آرہے ہیں کہ لداخ میں سرحدپر جاری کشیدگی کو ختم کیا جائے ۔










