1200سب انسپکٹروںکی بھرتی منسوخ،CBIتحقیقات کی سفارش
مجرموں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائیگا،حکومت جلد ہی نئی بھرتیوں کیلئے مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی :منوج سنہا
سری نگر//ایک اہم اقدام کے بطورجموں کشمیرکی انتظامیہ نے جموں وکشمیرپولیس میں ایک ماہ قبل کی گئی1200 سب انسپکٹروں کی بھرتی کو منسوخ کر دیا ہے اور بھرتی عمل کی سی بی آئی کے ذریعے جانچ کرانے کی سفارش کی ہے۔یادرہے4جون2022کومنتخب قرار دئیے گئے سب انسپکٹروں کی لسٹ منظرعام پرآتے ہی اس بھرتی عمل کیخلاف اُمیدواروںنے آوازبلند کرنے کیساتھ ساتھ جموں میںکئی مقامات پراحتجاجی مظاہر بھی کئے ،جسکے بعدلیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے بھرتی کے عمل میں دھاندلی کوبھانپتے ہوئے9جون کواس سارے عمل کی تحقیقات کرانے کااعلان کیا اوراگلے ہی رو زیعنی 10جون کوسب انسپکٹروں کی بھرتی کے عمل کی تحقیقات کیلئے ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کی سربراہی میں ایک تین رُکنی اعلیٰ سطحی انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ۔جے کے این ایس کے مطابق جموں وکشمیر پولیس میں1200نئے سب انسپکٹروںکی بھرتی عمل میں لانے کیلئے جموں وکشمیر سروس سلیکشن بورڈکی جانب سے27مارچ2022کوتحریری امتحان کاانعقاد کیاگیا ،جس میں لگ بھگ97ہزار اُمیدواروںنے حصہ لیا۔4جون 2022 کو سروس سلیکشن بورڈکی جانب سے منتخب قرار دئیے گئے اُمیدواروںکی فہرستآن لائن منظرعام پرلائی گئی ۔اس لسٹ کے جاری کئے جانے کے بعداُمیدواروں کے انتخاب کولیکر ہنگامہ بپا ہوا۔جموںمیں ہزاروں اُمیدواروںنے سڑکوں پر نکل کر بھرتی عمل پرسوال اُٹھائے اورایس ایس بی افسروں پر بدعنوانی ،طرفداری ،اقرباپروری اوردھوکہ دہی جیسے سنگین الزامات عائد کئے گئے جبکہ ساتھ ہی ناکام قرار دئیے گئے اُمیدواروںاوراُن کے رشتہ داروںنے اس بھرتی کیخلاف سوشل میڈیا پر بھی مہم چلائی ۔1200سب انسپکٹروںکی بھرتی یاانتخاب میں مبینہ بدعنوانی اورطرفداری کیخلاف جموںمیں زورداراحتجاج کے بعدجموں وکشمیر کے لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے 9جون کویہ اعلان کیاکہ اس معاملے کی تحقیقات عمل میں لائی جائیگی اوراگر کچھ غلط ہوا ہوگاتواس انتخاب کاکالعدم قرار دیکر نئے سرے سے بھرتی عمل میں لائی جائیگی ۔اگلے روز یعنی10جون 2022کوحکومت کی جانب سے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ،جسکاسربراہ فائنانشل کمیشنر وایڈیشنل سیکرٹری ہوم آرکے گوئل کوبنایا گیا۔حکومت کے پرنسپل سیکرٹری منوج کماردویدی کی جانب سے جاری حکومتی آرڈرمیں مزید کہاگیاکہ ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم کی سربراہی والی تین رکنی انکوائری کمیٹی اس سارے عمل سے جڑے معاملات کی چھان بین کرکے اپنی سفارشات پرمبنی رپورٹ15دنوںکے اندراندر حکومت کوپیش کرنے کی مکلف ہوگی ۔معلوم ہواکہ تین روز قبل مذکورہ انکوائری کمیٹی نے اپنی سفارشات پرمبنی تفصیلی جانچ یاانکوائری رپورٹ حکومت کوسونپ دی ۔اسی تحقیقاتی رپورٹ کے تناظر میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قیادت میں جموں و کشمیر انتظامیہ نے پولیس میں ایک ماہ قبل کی گئی سب انسپکٹروں کی بھرتی کو منسوخ کر دیا ہے اور بھرتی کے زیرِ اثر آنے کے بعد سی بی آئی جانچ کی سفارش کی ہے۔ایل جی کے دفتر سے ایک ٹویٹ میں لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا کے حوالے سے لکھاگیاکہ لیفٹنٹ گورنر نے جموں وکشمیرپولیس میں سب انسپکٹروں کی بھرتی کو منسوخ کر دیا گیا ہے اور سلیکشن کے عمل میں سی بی آئی جانچ کی سفارش کی گئی ہے۔ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا نے کہاکہ مجرموں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔انہوںنے کہاکہ یہ ہمارے نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کی طرف پہلا بڑا قدم ہے اور حکومت جلد ہی نئی بھرتیوں کیلئے مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی ۔خیال رہے ایل جی منوج سنہا نے 9جون کوبھرتی عمل کی تحقیقات کرانے کااعلان کرتے ہوئے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اگر کوئی بے ضابطگی پائی جاتی ہے تو پہلے کے عمل کو منسوخ کرنے کے بعد نئی بھرتی کی جائے گی۔










