ابتک75ہزار سے زیادہ یاتریوںنے دی حاضری اورکیا درشن
سری نگر//ایک دن تک معطل رہنے کے بعد، امرناتھ یاترا بدھ کو جموں و کشمیر میں موسمی حالات میں بہتری کے ساتھ دوبارہ شروع ہوئی۔ حکام نے بتایاکہ یاتریوں کے قافلے نون ون پہلگام اوربال تل بیس کیمپ سے بدھ کی صبح روانہ ہوئے ۔انہوںنے کہاکہ منگل کوموسم کی خرابی کے باعث جن 3ہزاریاتریوںکونون ون بیس کیمپ میں روکاگیاتھا،آج اُ ن کوآگے جانے کی اجازت دی گئی ۔حکام نے بتایاکہ ابھی تک75ہزار سے زیادہ یاتری امرناتھ گھپا میں حاضری دیکر وہاں شیولنگم کادرشن کرچکے ہیں ۔اس دوران جموں سے بدھ کی صبح 6000یاتریوںکوسخت سیکورٹی میں کشمیرکی جانب روانہ کیاگیا۔ڈویڑنل کمشنر جموں نے بتایا کہ عارضی طور پر معطل یاترا موسمی حالات میں بہتری کے بعد دوبارہ شروع ہوئی ہے۔جے کے این ایس کیمطابق موسمی صورتحال بہتر ہونے کے بعدبدھ کوامرناتھ یاترا دونوں راستوں سے معمول کے مطابق ہوئی ۔حکام نے بتایاکہ نون ون پہلگام سے یاتریوںکاایک قافلہ بدھ کی صبح امرناتھ گھپاکی جانب روانہ ہوا ،جس میں وہ تین ہزاریاتری بھی شامل ہیں ،جن کومنگل کے روز موسم خراب ہونے کے پیش نظر یہاں بیس کیمپ میں ہی روکاگیاتھا۔انہوںنے کہاکہ بال تل بیس کیمپ سے یاتریوںکاگروپ معمول کے مطابق روانہ ہوا۔اس دوران جموںکے ڈویژنل کمشنر نے بدھ کی صبح ٹویٹ کیاکہ خراب موسمی حالات کی وجہ سے جموں میں عارضی طور پر معطل یاترا اب بہتر موسمی حالات کی وجہ سے دوبارہ شروع کر دی گئی ہے۔حکام نے بتایاکہ بدھ کی صبح بھگوتی نگربیس کیمپ سے تقریباً6000یاتری209گاڑیوں میں روانہ ہوئے ۔انہوںنے بتایاکہ آٹھویں روز جموں بیس کیمپ سے کل5982یاتریوںکوروانہ کیاگیا۔حکام کے مطابق 3363یاتری جن میں665 خواتین، 75 سادھو اور 17 بچے شامل ہیں، 131 گاڑیوں کے قافلے میں بدھ کی صبح 9 بجکر50منٹ پر نون ون پہلگام کی جانب روانہ ہوئے جبکہ 2619یاتریوں پرمشتمل ایک اورقافلہ ،جس میں556خواتین اور49سادھوبھی شامل ہیں،صبح ساڑھے10بجے78گاڑیوںمیں بال تل بیس کیمپ کی جانب روانہ ہوا۔حکام نے بتایاکہ یاتریوں کے دونوں قافلوںکیساتھ سیکورٹی فورسزکے دستے بھی روانہ ہوئے ،جو راستے میں یاتریوںکی حفاظت کویقینی بنائیں گے ۔اس دوران حکام نے یہاں بتایاکہ ابھی تک75ہزار سے زیادہ یاتری امرناتھ گھپا میں حاضری دیکر وہاں شیولنگم کادرشن کرچکے ہیں۔یادرہے43روزہ امرناتھ یاترا 30جون کونون ون اوربال تل کے دوپہاڑی راستوں سے شروع ہوئی اوریہ یاترا 11، اگست کو رکھشا بندھن کے موقع پر اختتام پذیر ہوگی ۔










