سزا کی مقدار پر دلائل کیلئے25 مئی کی تاریخ مقرر
سری نگر// جموں و کشمیر کے علیحدگی پسند رہنما یاسین ملک کو جمعرات کو قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی عدالت نے مجرم قرار دیا۔ یاسین ملک نے سماعت کی آخری تاریخ کو ٹیرر فنڈنگ کیس میں جرم قبول کیا تھا۔این آئی اے سے کہا گیا ہے کہ وہ مقامی حکام کی مدد لینے کے بعد مجرم یاسین ملک کی سماجی و اقتصادی حیثیت کا حلف نامہ پیش کرے۔جے کے این ایس کے مطابق یاسین ملک کو یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنی آمدنی اور اثاثوں کے تمام ذرائع (منقولہ اور غیر منقولہ) ظاہر کرتے ہوئے ایک حلف نامہ داخل کریں۔این ائی اے عدالت کے خصوصی جج پروین سنگھ نے سزا کی مقدار پر دلائل کیلئے25 مئی کی تاریخ مقررکی۔خیال رہے گزشتہ سماعت میں یاسین ملک نے عدالت کو بتایا تھا کہ وہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا مقابلہ نہیں کر رہے ہیں جن میں سیکشن 16 (دہشت گردانہ ایکٹ)، 17 (دہشت گردانہ کارروائی کے لیے فنڈز اکٹھا کرنا)، 18 (دہشت گردانہ کارروائی کی سازش)، 20 (دہشت گرد گروہ کا رکن UAPA کی تنظیم ، آئی پی سی کی دفعہ 120-B(مجرمانہ سازش) ، 124-A(غداری)شامل ہے۔حال ہی میں، عدالت نے یاسین ملک سمیت کئی علیحدگی پسند رہنماؤں کے خلاف UAPA اور IPC کے تحت الزامات عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔دریں اثنا، عدالت نے باضابطہ طور پر دیگر کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں کے خلاف الزامات طے کئے جو اس کیس میں ملزم ہیں۔فاروق احمد ڈار عرف بٹا کراٹے، شبیراحمد شاہ، مسرت عالم، محمد یوسف شاہ، آفتاب احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، نعیم خان، محمد اکبر کھانڈے، راجہ معراج الدین کلوال، بشیر احمدbٹ، ظہور احمد شاہ وتالی، عبدالطیف احمد شاہ، راشد شیخ اور نیول کشور کپور نے منگل کو عدالتی حکم نامے پر باضابطہ طور پر دستخط کئے اور کہا کہ وہ اس مقدمے کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہیں۔این آئی اے کے جج نے حکم جاری کرتے ہوئے کہاکہ تجزیہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ گواہوں کے بیانات اور دستاویزی ثبوتوں نے تقریباً تمام ملزمین کو ایک دوسرے سے اور علیحدگی کے ایک مشترکہ مقصد سے جوڑا ہے۔16 مارچ کو این آئی اے کورٹ نے لشکر طیبہ کے بانی حافظ سعید اور حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین، کشمیری علیحدگی پسند رہنماؤں بشمول یاسین ملک، شبیر شاہ، مسرت عالم اور دیگر کے خلاف مختلف دفعات کے تحت الزامات عائد کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت نے کشمیری سیاستدان اور سابق ایم ایل اے انجینئررشید، معروف تاجر ظہور احمد شاہ وٹالی، بٹہ کراٹے، آفتاب احمد شاہ، اوتار احمد شاہ، نعیم خان، بشیر احمد بٹ عرف پیر سیف اللہ اور متعدد دیگر کے خلاف مختلف الزامات کے تحت آئی پی سی اور یو اے پی اے کی دفعات بشمول مجرمانہ سازش، ملک کے خلاف جنگ چھیڑنا، غیر قانونی سرگرمیاں وغیرہ کی روشنی میںالزامات عائد کرنے کا بھی حکم دیا تھا۔عدالت نے نوٹ کیا کہ دلائل کے دوران، کسی بھی ملزم نے یہ دلیل نہیں دی کہ انفرادی طور پر ان کا کوئی علیحدگی پسند نظریہ یا ایجنڈا نہیں ہے یا انہوں نے علیحدگی کیلئے کام نہیں کیا ہے اور نہ ہی سابقہ ریاست جموں و کشمیر کو بھارت کییونین سے الگ کرنے کی وکالت کی ہے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ حکم میں جو کچھ بھی ظاہر کیا گیا ہے وہ پہلی نظر میں رائے ہے، حالانکہ شواہد پر تفصیلی بحث کی جانی تھی کیونکہ دونوں فریقوں کی طرف سے دلائل بہت تفصیل سے آگے بڑھے تھے۔این آئی اے کے مطابق مختلف دہشت گرد تنظیمیں جیسے لشکر طیبہ، حزب المجاہدین ، جموں و کشمیر لبریشن فرنٹ، جیش محمد وغیرہ کی حمایت سے پاکستان کی آئی ایس آئی نے شہریوں اور سیکورٹی فورسز پر حملہ کرکے وادی میں تشدد کا ارتکاب کیا۔ مزید الزام لگایا گیا کہ سال 1993 میں آل پارٹیز حریت کانفرنس (اے پی ایچ سی) کا قیام علیحدگی پسند سرگرمیوں کو سیاسی محاذ دینے کے لیے کیا گیا تھا۔










