ہر گھر میں نل کے ذریعے جل :خواب کب شرمندہ تعبیر ہوگا؟

12سوکنبوں پر مشتمل علاقے کی وسیع آبادی پانی کے لئے دور جدید میںبھی گھوڑوںاور خچروں کا کے خدمات حاصل کرنے پر مجبور

سرینگر//جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے دور افتادہ علاقے نیل پھن صمد حال میں پینے کی پانی کی عدم دستیابی کے باعث علاقے کی وسیع آبادی کو دور جدید میں طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ لوگوں کے مطابق علاقے میں کی سپلائی فراہم نہ کرنے کے باعث علاقے کی سینکڑوں نفوس پر مشتمل وسیع آبادی 7کلو میٹر کی مسافت طے کے گھوڑوں اور خچروں کا استعمال کر کے پانی گھروں تک پہنچا رہے ہیں جس کے سبب انہیں طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ علاقے سے تعلق رکھنے والے چند معزز لوگوں نے نمائندے کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ’ ضلع اننت ناگ کے برنگ حلقہ انتخاب اور لارنوں بلاک کے تحت آنے والے علاقے ’’نل پھن ٹاپ‘‘ حلقہ کھار پورہ بتایاکہ علاقے کی وسیع آبادی کے لوگ پینے کے صاف پانی کے لئے سے محروم ہیں ۔لوگوں نے بتایا سابق ممبر اسمبلی پیر زادہ محمد سعید کے دور اقتدار میںلوگوں کے مشکلات کو دیکھ کرایک پروجیکٹ منظور ہوا تھا تاہم تب سے آج تک اس اہم پروجیکٹ کا کام ادھورا پڑا ہے جس کے باعث زر کثیر خرچ ہونے کے باوجود لوگوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا ۔مقامی زی عزے شہریوں نے بتایا اب دو سال سے لوگوں نے از خوددوڑ دھوپ کر کے مختلف افسران کے دفاتر کا دورہ کیا، جس کے بعد اس پر پھر سے کام شروع کیا گیا ہے اس طرح سے مین لائن بن چکی ہے جو پورجیکٹ کا پہلا مرحلہ تھا ۔انہوں نے بتایا پروجیکٹ کے مطابق لٖفٹ کے ذریعے اس بستی میں پانی پہنچانا ہے جہاں لفٹ کا ایک مرحلہ مکمل ہوا ہے اور سیول ونگ نے بھی ٹنکیوں کا کام مکمل کیا ہے ۔لوگوں نے بتایا اب لفٹ کا دوسرا مرحلہ میکنل کو بنانا ہے جنہوں نے اس حوالے سے تاحال کوئی کام نہیں کیا ہے اور ناہی کوئی ٹنڈرنگ ہوئی ہے اور نا ہی کوئی اپروول ملا ہے۔مقامی زی عزت شہریوں نے بتایا تب سے محکمے کے تین چیف انجینئرنوکریوں سے سبکدوش ہوئے لیکن یہ کام پائیہ تکمیل کو نہیں پہنچ رہا ہے اور خاص کر عوام مسلسل پریشانیوں کا سامنا کر رہا ہے۔انہوں نے بتایا علاقے کی آبادی پینے کے ایک ایک بوند کے لئے ترس رہے ہیں ۔انہوں نے اس حوالے سے چیف انجینئر اور جموںو کشمیر کے ایل جی منوج سنہا سے اس بارے میں مداخلت کی اپیل کی ہے ۔