نوکریوں سے متعلق آپ کے تمام مسائل کو ایک ہفتے کے اندر حل کر دیں گے:ڈیویژنل کمشنر کشمیر
سرینگر//جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے قاضی گنڈ کے ویسوعلاقے میں کشمیری پنڈتوں کی ایک بڑی تعداد نے بڈگام میں مارے گئے پنڈت نوجوان کے ہلاکت کے خلاف ایک ہی جگہ جمع ہو کر احتجاجی دھر نا دیا ۔ جہاں صوبائی کمشنر کشمیر اور آئی جی پی نے احتجاجیوں کے ساتھ ،ملاقات کر کے انہیں یقین دلایا کہ وہ وادی چھوڑ کر نہیں جائیں گے اور سروس سے متعلق ان کے مسائل کو ایک ہفتے کے اندر حل کیا جائے گا جبکہ دیگر مسائل کو متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا ۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق ڈویژنل کمشنر کشمیر پی کے پول نے منگل کو قاضی گنڈ کے ویسو میں احتجاجی کشمیری پنڈتوں کا دورہ کیا اور انہیں یقین دلایا کہ “سروس سے متعلق تمام مسائل کو ایک ہفتہ کے اندر حل کر لیا جائے گا” جبکہ دیگر کی طرح۔ اعلیٰ حکام سے مطالبات اٹھائے جائیں گے۔نمائندے کے مطابق پول، جو آئی جی پی کشمیر وجے کمار کے ہمراہ تھے، نے ویسو کیمپ میں احتجاج کرنے والے کے افراد سے ملاقات کی اور اس دوران کشمیری پنڈتوں نے ایک میمورنڈم ڈویژنل کمشنر کو پیش کیا۔ کشمیری پنڈتوںکے کچھ لوگوں نے یہاںایک ہی جگہ جمع ہوئے اور ایک احتجایی دھر نا دیا ہے جس میں مرد اور خواتین کی ایک بڑی تعدادجمع ہوئے ہو مسرکار مخالف اورانصاف کے حق میں نعرے لگا رہے تھے ۔اس دوران احتجاجیوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر نعرے درج تھے-“ہمیں جموں منتقل کر دو”۔ تحصیل دفتر چاڈورہ میں کے پی کے ملازم راہول بھٹ کے قتل کے بعد کے کشمیری پنڈت کمیونٹی، خاص طور پر وہ لوگ جو وزیر اعظم کے بحالی پیکیج (PMRP) کے تحت کشمیر میں کام کر رہے ہیں، گزشتہ ایک ہفتے سے احتجاج کر رہے ہیں۔احتجاج کرنے والوسے خطاب کرتے ہوئے ڈویڑنل کمشنر نے کہا کہ آپ کے نوکری کے سلسلے سے متعلق تمام مسائل ایک ہفتے کے اندر حل کر لیے جائیں گے کیونکہ اقدامات پہلے ہی سے جاری ہیں۔انہوں نے انہیں کہا ،کہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے ملازمتوں، پوسٹنگ کی جگہ، پوسٹنگ کے اضلاع، ترقیوں وغیرہ سے متعلق مسائل کو ایک ہفتے کے اندر حل کر دیا جائے گا،” پول نے احتجاج کرنے والے KPs کو بتایا اور انہیں ہر ممکن مدد کا یقین دلایا۔انہوں نے کہا کہ عسکریت پسند بڑی سیکورٹی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی اپنی طاقت کھو چکے ہیں جو وہ پہلے کیا کرتے تھے اور اب وہ غیر مسلح پولیس اہلکاروں سمیت نرم اہداف پر حملے کر رہے ہیں جو چھٹی پر گھروں کو جاتے ہیں۔ “ان ہلاکتوں کا مقصد اقلیتوں میں خوف کی نفسیات پیدا کرنا ہے۔ میں آپ کو بتا سکتا ہوں کہ کشمیر میں سیکورٹی کا ماحول وہ نہیں جو 10 سال پہلے تھا۔ بہت بہتری ہے۔










