حکومت ہر برس نویں سے بارہویںجماعت تک کے 70,000 طلباء کو پیشہ ورانہ تعلیم فراہم کررہی ہے
سری نگر//طلباء کے لئے کاروباری ترجیحات کو آگے بڑھانے میں پیشہ ورانہ تربیت کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے جموں وکشمیر حکومت اِس اہم شعبے کو ہر سطح پر فروغ دینے پر توجہ مرکوز کررہی ہے تاکہ کسی خاص کام کے لئے نوجوانوں کی تکنیکی صلاحیتوں کو بڑھایا جاسکے۔اِنتظامیہ نے یونین ٹیریٹری میں تعلیم کی تمام سطحوں پر معیار میں اِضافہ کرنے کے سلسلے کے طور پر موجودہ سٹیٹ اِنسٹی چیوٹس آف ایجوکیشن ( ایس آئی اِی ) اورڈسٹرکٹ انسٹی چیوٹس آف ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ (ڈی آئی اِی ٹی )کو ضم کرکے سٹیٹ کونسل آف ایجوکیشن ریسرچ اینڈ ٹریننگ ( ایس سی اِی آر ٹی ) قائم کیا ۔اِس اقدام کا مقصد اساتذہ کی تعلیم اور نصابی اِصلاحات کو مرکزی دھارے میں لانے کے علاوہ پورے جموںوکشمیر یوٹی میں سکولی تعلیم کے میدان میں تعلیمی تحقیق ، توسیع اور تربیتی معاونت فراہم کرنا ہے ۔سرکاری تفصیلات کے مطابق ووکیشنل ایجوکیشن کے تحت سکولوں سے باہر نوجوانوں ے لئے 40 سکولوں میں سکل ہب انیشی ایٹو بھی نافذ کیا گیا ہے ۔ جموںوکشمیر یوٹی میں 14 مختلف ہنروںمیں 714 سیکنڈری اور سینئر سیکنڈری سکولوں میں پیشہ ورانہ تعلیم دی جارہی ہے ۔ اِس کے علاوہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سِنہا سے 626 ووکیشنل لیبارٹریوں کے اِفتتاح کے ساتھ ہی جموںوکشمیر میں اِس اہم سہولیت کی کل تعداد 850 ہوگئی ہے ۔حکومت ہر برس 9ویں سے 12ویں جماعت تک کے 70,000 طلباء کو پیشہ ورانہ تعلیم فراہم کر رہی ہے جن میں سے زیادہ تر اَپنے متعلقہ شعبوں میں روزگار حاصل کر رہے ہیں۔قومی تعلیمی پالیسی ( این اِی پی ) کے ایک حصے کے طور پرچٹھی سے آٹھویں کے تمام طلباء کو پیشہ ورانہ تعلیمی اِداروں کے ساتھ نقشہ بنایا گیا ہے تاکہ پیشہ ورانہ تعلیم کی بنیادی مہارتیں فراہم کی جاسکیں۔این آئی پی یو این بھارت مشن کے ایک حصے کے طور پر پہلی تا پنجم جماعت کے 5,22,226 طلباء کو ورک بُک ، ورک شیٹس اور فلیش کارڈ کی شکل میں تدریسی مواد فراہم کیا گیا اور 40,318 پرائمری اساتذہ کو 13.66 کروڑ روپے کی لاگت سے وسائل فراہم کئے گئے۔اِس کے علاوہ 4.03 کروڑ روپے ڈی آئی اِی ٹی ایس کو فراہم کئے گئے تاکہ ایف ایل این ( بنیادی خواندگی اور اعداد و شمار ) پر تربیت کی جاسکے اور اساتذہ کو تدریس کی نئی تکنیکوں سے روشناس کیا جاسکے۔اِس کے علاوہ جموںوکشمیر یوٹی میں 100روزہ ریڈنگ مہم کامیابی سے چلائی گئی جس میںزائد اَز 4لاکھ طلباء نے حصہ لیا۔سکولوں کی بنیادی ضروریات کا خیال رکھنے کے لئے اِس بات کو یقینی بنانے کے لئے کہ پڑھائی متاثر نہ ہو۔22,250سکولوں کو 45.94کروڑ روپے کمپوزٹ سکول گرانٹ کے طور پر فراہم کئے گئے جو 10,000 روپے سے 1,00000 روپے فی سکول کے درمیان ہے جس میں سے سکولوں میں سوچھتا سرگرمیوں پر 4.60 کروڑ روپے خرچ کئے گئے ۔اِسی طرح 47.29 کروڑ روپے کی ادائیگی ڈی بی ٹی کے ذریعے کلاس اوّل سے آٹھویں کے 7,88,247طلباء کے کھاتوں میں کی گئی جس کی قیمت 600روپے فی طالب کے حساب سے دو سلی ہوئی یونیفارم کی قیمت کے طور پر کی گئی ۔آفیشل نے جانکاری دی کہ اعلیٰ درجے کے سکولوں کو آنے والے برسوں میں سمارٹ سکولوں کے طورپ تیار کیا جائے گا جو تمام بنیادی سہولیات سے آراستہ ہوں گے ۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ بنیادی ڈھانچے او رکھیل سہولیات میں کوئی فرق نہیں ہوگا اور اَساتذہ کو ان کے تعلیمی معیار کو بڑھانے کے لئے خصوصی تربیت دی جائے گی۔نوجوانوں کی توانائی کی چینلائز کرنے ، ان کی شخصیت کو نکھارنے اور مستقبل کے چیلنجوں کے لئے تیار کرنے کی خاطر جموںوکشمیر یوٹی کی ہر پنچایت میں کم سے کم 5اراکین کے ساتھ یوتھ کلب بنائے جارہے ہیں۔اِسی طرح 2021-22ء میں سکولوں کے لئے 5,000روپے ، یو پی ایس کے لئے 10,000 روپے اور ایچ ایس اور ایچ ایس ایس کے لئے 25,000روپے کے حساب سے ضلعی اَفسران سے سکولوں کو 19.67کروڑ روپے کی سپورٹس اینڈ فزیکل ایجوکیشن کی گرانٹس فراہم کی گئیں۔رائٹس ٹو ایجوکیشن کے تحت جموںوکشمیر سٹیٹ بورڈ آف سکول ایجوکیشن کے ذریعے جماعت تیسری تا آٹھویں کے 5,50,000 طلباء کو 19.30 کروڑ روپے مفت نصابی کتابیں فراہم کی گئیں۔










