سری نگر میں رات گئے آگ کی ہولناک واردات

کشمیرمیں آتشزدگی : معمول کی لاپرواہی،تخریب کاری یاغیر معمولی صورتحال کاپیش خیمہ

جنوری کے اوائل سے رواں ماہ کے دوسرے ہفتے تک تقریباً700وارداتیں

سری نگر//جہاں ملی ٹنسی کے واقعات،منشیات کی اسمگلنگ اورسڑک حادثات سیکورٹی ایجنسیوں بشمول پولیس کیلئے 3بڑے چیلنج ہیں ،وہیں آئے دنوں رونما ہونے والی آگ کی اورداتیں عوامی حلقوں میں باعث تشویش بن رہی ہیں ۔جے کے این ایس کے مطابق رواں برس آتشزدگی کی وارداتوں کاگراف کافی بڑھ گیا ہے ،کیونکہ جنوری کے اوائل سے رواں ماہ کے دوسرے ہفتے تک کشمیروادی کے اطراف واکناف میں آگ زنی آگ لگنے کی لگ بھگ700وارداتیں رونما ہوئی ہیں جبکہ محکمہ فائراینڈ ایمرجنسی سروسزنے پہلے تین ماہ کے دوران کشمیرمیں آتشزدگی کے660واقعات کی تصدیق کی ہے ۔ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ2022 کے پہلے 90 دنوں میں یعنی جنوری کے اوائل سے مارچ کے اوآخر تک کشمیر میں آگ لگنے کے 660 واقعات رپورٹ ہوئے،اوران وارداتوں میں تقریباً 350 کروڑ روپے کی املاک بشمول525رہائشی وغیر رہائشی تعمیرات وڈھانچے، 99دُکانات، 11تجارتی یا شاپنگ کمپلیکس،ایک ہسپتال اور 8 گاڑیاں بھی خاکستر ہوگئیں جبکہ آگ کی ان وارداتوں کے دوران کم از کم 10 لوگوں کی موت ہوئی ہے۔فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے تیار کردہ سرکاری اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ آتشزدگی کے ان660 واقعات میںتقریباًساڑھے350 کروڑ روپے کی املاک کو نقصان پہنچا، جبکہ 32 کروڑ روپے کے لگ بھگ گھریلو اورکاروباری سامان بھی جل گیا۔اس خوفناک منظر نامے میں، سری نگر آتشزدگی کے بڑے مرکز کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔رواں سال جنوری کے اوائل سے مارچ کے اوآخر تک شہر میں143 وارداتیں ہوئیں۔ نقصان کا تخمینہ 221 کروڑ روپے لگایاگیاہے۔فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ سری نگر کو آگ لگنے کے حوالے سے143 کالیں موصول ہوئیں۔جنوری کے اوائل سے مارچ کے اوآخر تک دوسری سب سے زیادہ آتشزدگی کی کالیں بارہمولہ ضلع سے موصول ہوئی ہیں جہاں آگ لگنے کے108 واقعات رونما ہوئے ہیں جن میں20 کروڑ روپے کی املاک اور 18 کروڑ روپے کا گھریلو وکاروباری سامان شامل ہے۔کشمیروادی دیگر 8 اضلاع بشمول بڈگام، اننت ناگ، کپواڑہ، پلوامہ، شوپیاں، گاندربل، کولگام اور بانڈی پورہ میں بھی کم نہیں ہیں جہاں جنوری 2022سے مارچ کے آخرتک بالترتیب 45، 68،81، 53، 24، 49، 39 اور 50 آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ رواں برس نجی املاک کے علاوہ 39بجلی ٹرانسفارمروں میں بھی آگ لگ گئی۔ جنگلات میں آگ لگنے کے 10 واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان واقعات میں275 کروڑ روپے کی املاک وجائیداد کو بچانے کا دعویٰ کیا ہے۔سروے میں شارٹ سرکٹ اور گیس کے اخراج کو آگ لگنے کے واقعات کی بڑی وجہ قرار دیا گیا۔دریں اثناء غیرسرکاری تفصیلات کے مطابق ماہ اپریل کے اوائل سے رواں ماہ کے دوسرے ہفتے تک کشمیروادی میں آتشزدگی ،آگ زنی یاآگ لگنے کے مزید تقریباً50واقعات رونماہوئے ہیں ،جس دوران درجنوں مکانات ودیگر تعمیرات ،دکانات وتجارتی کمپلیکس خاکستر اوران میں موجودکاروباری اورگھریلو سامان بشمول طلائی زیورات اورنقد رقم بھی ملیامیٹ ہوگئی۔محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی سروسز نے کہا ہے کہ حکومت کو نئے رہنما خطوط کے مطابق وادی میں تعمیراتی نظام کو بہتر بنانے اور سرکاری اور نجی تجارتی اداروں میں برقی نظام کے سالانہ معائنہ کو لازمی بنانے کی ضرورت ہے۔ماہرین اورجانکار کہتے ہیں کہ آتشزدگی یاآگ نمودار ہونے کی کئی ایک وجوہات ہیں ،جن میں افراد خانہ کی لاپرواہی ،گھریلو میں ناقص بجلی فٹنگ ،رسوئی گیس کابغیر اختیاط کے استعمال اورگنجان آبادی والے علاقوںمیں گھروں کے بالکل نزدیک بجلی کھمبوںکی تنصیب اوربجلی تاروں کی ترسیل بھی شامل ہیں جبکہ آتشزدگی کی وارداتوں کے درپردہ تخریب کاری بھی ایک وجہ ہوسکتی ہے ،کیونکہ ماضی میں ایسی کئی مثالیں ہیں ،جہاں تخریب کاروںنے کسی مکان،دکان ،شاپنگ کمپلیکس یابجلی ٹرانسفارمر کوشعلوںکی نذر کردیا۔اب جہاں تک کشمیر میں پچھلے6برسوں کے دوران رونماہونے والی آگ کی وارداتوں اوراس دوران ہونے والے نقصانات کاتعلق ہے توپچھلے6 سالوں سے وادی میں آگ لگنے کے 15593 سے زیادہ واقعات ہو چکے ہیں۔ سال 2016 اور 2017 میں بالترتیب3548اور 2914 آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔جبکہ سال2018میں2741 ،سال2019میں 1812 ،سال2020 میں 2336 اور سال2021میں آتشزدگی کی2242وارداتیں رپورٹ ہوئیں ۔