لارنو اننت ناگ میں طبی سہولیات کے فقدان سے لوگ پریشان

سرینگر//اننت ناگ لارنو جوکہ ٹاون سے پچاس کلومیٹر دوری پر واقع ہے میں طبی سہولیت کا فقدان ہے جس کے نتیجے میں مقامی لوگوںکو پچاس کلومیٹر مسافت طے کرکے اننت ناگ آنا پڑتا ہے ۔ جبکہ علاقے میں قائم ایک پرائمری ہیلتھ سنٹر برائے نام ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق ضلع اننت انگ کے لارنو قصبہ اننت ناگ سے 50کلو میٹر کی دوری پر واقع ہے جہاں پر 1972میں پرائمری ہیلتھ سنٹر قائم کیا گیا ہے ۔ اور اُس وقت ہسپتال میں جو مشنری نصب کی گئی تھیں آج تک وہی پُرانے زمانے کی وہاں پڑی ہوئی ہے ۔ مقامی لوگوںنے کہا کہ ہسپتال میں ایکسرے مشنین، ای سی جی مشنین اور دیگر سازوسامان اب ناکارہ ہوچکا ہے جس کی وجہ سے یہاں آنے والے مریضوں کو ٹسٹ ، ایکسرے اور دیگر تشخیصات کیلئے پچاس کلو میٹر کا سفر طے کرنا پڑتا ہے ۔لوگوںنے کہا کہ مریضوں کو درپیش مشکلات اگرچہ بی ایم او کی نوٹس میں لانا بھی اگر مطلوب ہوتا ہے تو وہاں پر بی ایم او بھی دستیاب نہیں ہے کیوں کہ بی ایم ایم جو پہلے وہاں پر رہتا تھا اب کئی برسوں سے یہاں نہیں آتا ۔ لوگوںنے اس ضمن میں محکمہ ہیلتھ کے اعلیٰ افسران سے اپیل کی ہے کہ وہ اس ضمن میں مداخلت کرکے مذکورہ علاقے کے پرائمری ہیلتھ سنٹر میں ایکسرے اور دیگر مشنری ٹھیک کرنے کیلئے یا نئی جدید زمانے کی مشنری لائی جائے تاکہ یہاں آنے والے مریضوں کو درپیش مشکلات سے نجات ملے ۔