کشمیر پنڈت کے انتقال کے بعد آخری رسومات میںمقامی مسلم برادری کی شرکت
سرینگر //کورونا قہر کے بیچ وسطی ضلع گاندربل میں ہند مسلم روایتی بھائی چارے کی تازہ مثال اس وقت دیکھنے کو ملی جب ایک کشمیر پنڈت کے انتقال کے بعد مقامی مسلم برادری نے اس کی آخری رسومات میں بڑھ چڑ ھ کر حصہ لیا اور لواحقین کی ڈھارس بھی بندھائی ۔ سی این آئی کو اس ضمن میں گاندربل سے نمائندے نے تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ گاندبل کے لار علاقے میں کشمیری مذہبی رواداری ور ہندو مسلم اتحاد کی صدیوں پرانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے مقامی مسلمانوں نے ایک پنڈت کی آخری رسومات میں حصہ لیا۔نمائندے کے مطابق لار علاقے میں ایک مقامی کشمیری پنڈت 65 سالہ موہن کرشن متو ولد شام لال کے فوت ہونے کی خبر موصول ہوتے ہی مقامی مسلمانوں نے ان کے رہائشی مکان کا رخ کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔قامی مسلمانوں نے صدیوں پرانے بھائی چارے اور مذہبی رواداری برقرار رکھتے ہوئے موہن کرشن کی آخری رسومات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اس موقعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے مقامی مسلمانوں نے بتایا کہ عالمی وبا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو مد نظر رکھتے ہوئے انہوں نے بھیڑ بھاڑ جمع کیے بغیر ہی موہن کرشن کی آخری رسومات انجام دیں۔انہوں نے کہا کہ مسلمانوں نے موہن کرشن کی آخری رسومات میں حصہ لے کر یہاں کے مثالی بھائی چارے کی روایت برقرار رکھی۔










