covid-19 Jammu and kashmir

وادی کشمیر میں کورونا وائرس کے روازنہ کے کیسوں میں اضافہ ہونے لگا ،عوام میں تشویش

اننت ناگ کی28سالہ خاتون کی ایس ایم ایچ ایس میں فوت

سری نگر / /جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون 3روز تک سرینگر کے ایک ہسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد کورونا وائرس کے بعد لقمہ اجل بن گئی ہے ۔شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ کے میونسپل کونسل سوپور میں جمعہ کو اس وقت افرا تفری اور پریشانی کا ماحول پیدا ہوا جب یہاں بیک وقت کے 12 ملازمین کے کورونا وائرس کے مثبت ٹیسٹ کے بعد خوف و ہراس پھیل گیا۔ادھر سرینگر کے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال میں زیر علاج جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کی ایک28سالی خاتون کی واقع ہوئی ہے ۔کشمیر نیوز سروس ( کے این ایس ) کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے تعلق رکھنی والی ایک28سالہ خاتون کی جمعہ کے روز یہاں ایک ہسپتال میں کورونا سے موت واقع ہوئی۔ ذرائع نے بتایا کہ اننت ناگ سے تعلق رکھنے والی ایک 28سالہ خاتون کورونا کی وجہ سے جمعہ کی دوپہر کو یہاں شری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال (ایس ایم ایچ ایس) میں فوت ہوگئی۔حکام کا کہنا تھا کہ خاتون نمونیہ میں مبتلا تھی جس کے بعد انہی ں اننت ناگ سے ایس ایم ایچ ایس ہسپتال سرینگر میں 11جنوری کو داخل کیا گیا ہے جس کو کافی حدتک داکٹروں نے بچانے کی کوشش کی تاہم وہ نہ بچ سکی ہے ۔انہوں نے بتایا متوفی خاتون کو ویکسین کا پہلا ڈوز بھی دیا گیا تھا جس کے باجووبھی اسکی موت واقع ہوئی ہے۔قابل ذکر ہے کہ ملک بھر کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر میں بھی کورونا کے مثبت کیسز میں آئے روز ہوشربا اضافہ درج ہو رہا ہے جس سے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔خیال رہے کورونا کی تیسری لہر کے ممکنہ دستک کے ساتھ ہی انتظامیہ بڑے پیما نے پر متحرک نظر آ رہی ہے ۔جبکہ لوگوں کو انتہائی درجے کی احتیاط برتنے کے لئے کہا گیا ہے ۔ احتیاطی تدا بر کے تحت حکام نے مریضوں اور تیمارداروں کو ہسپتالوں میں داخل ہونے سے قبل کووڈ ٹسٹ لازمی قرار دیا گیا ہے ادھر محکمہ صحت نے بھی جہاں ڈاکٹروں اور طبے عملے کی چھٹیاں منسوخ کی ہیں وہیں فیکلٹی کے لئے سرمائی تعطیلات بھی منسوخ کی ۔جبکہ تعلیمی اداروںمیں درس و تدریس کا عمل بھی روک دیا گیا ہے تاکہ یہ وائرس دوبارہ نہ پھیل جائے ۔اس دوران جمعرات کو انتظامیہ نے اس حوالے سے علماء کرام اور آئمہ حضرات سے بھی مدد کی اپیل کی ہے تاکہ ودی میں اس وبا پر قابو پایا جا سکے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ادی کشمیر میں کورونا کے یومیہ کیسز میں پچھلے تین روز کے دوران پچاس فیصدی کا اضافہ ہوا ہے جس وجہ سے لوگوں میں فکر وتشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔طبی ماہرین نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کورونا رہنما اصولوں پر من وعن عمل کریں تاکہ وائرس کو مزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔دریں اثناء شمالی کشمیر کے ضلع بارہمولہ میں جمعہ کے روزعام لوگوں کے ساتھ ساتھ میونسپل کونسلکے ملازمین سمیت کوگوں کی ایک بڑی تعداد کی جانچ کی گئی جس میں میونسپل کونسل سوپور کے 12 ملازمین کا کووڈٹسٹ مثبت آئے ہیں۔ذرائع نے بتایا ٹسٹ مثبت آنے کے بعد سبھی کو خود کو الگ تھلگ کرنے کو کہا گیا ہے جب باقی ملازمین جو ایک ساتھ کام کرتے ہیں تشویش کی لہر ڈوڑ گئی ہے ۔اس حوالے سے حکام کا کہنا تھا کہ حکام کی جانب سے حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں جبکہ تمام ملازمین کو ٹیسٹ کے لیے جانے اور تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کو کہا گیا ہے۔یہ پیشرفت ملک بھر سے کورونا وائرس اور اومیکرون کے بڑھتے ہوئے کیسز کے درمیان سامنے آئی ہے۔اسے قبل سوپور میں184افراد کے ٹسٹ مثبت پائے گئے ہیں ۔