انڈیا میں بے روزگاری کی سنگین صورتحال:ڈگری یافتہ نوجوان معمولی نوکریاں کرنے پر مجبور

انڈیا میں بے روزگاری کی سنگین صورتحال:ڈگری یافتہ نوجوان معمولی نوکریاں کرنے پر مجبور

سرینگر// بھارت میں اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان معمولی نوکریاں ڈھونڈنے پر مجبور ہوگئے ہیں کیوں کہ کوروناوائرس ظاہر ہونے کے بعد سے ملک میں روزگار کے مواقعے کم ہورہے ہیں اور امسال اس میں زیادہ اضافہ ہوا ہے ۔ کرنٹ نیو زآف انڈیا کے مطابق گزشتہ ہفتے انڈیا میں قانون کی ڈگری رکھنے والے ایک نوجوان نے ڈرائیور کی نوکری کے لیے درخواست دی تھی۔ جتندر موریا ان دس ہزار بے روز گار نوجوانوں میں شامل تھے جو انڈین ریاست مدھیا پردیش میں معمولی نوعیت کی 15 خالی سرکاری آسامیوں کے لیے انٹرویو دینے آئے تھے۔ان میں سے اکثریت کی تعلیم ان آسامیوں کی شرائط سے کہیں زیادہ تھی اور ایک رپورٹ کے مطابق ان میں پوسٹ گریجویٹس، انجینئیر، ایم بی اے اور موریا جیسے افراد بھی شامل تھے جو جج بننے کے لیے قانون کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے۔موریا نے ایک نیوز چینل کو بتایا کہ ’حالت یہ ہے کہ کبھی کبھار کتابیں خریدنے کے پیسے بھی نہیں ہوتے اس لیے سوچا کیوں نہ یہاں کچھ کام کر لوں۔‘موریا کی حالت انڈیا میں شدید بے روز گاری کی صورتحال اور بحران کی عکاسی کرتی ہے۔کووڈ کی عالمی وبا نے ایشیا کی تیسری بڑی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے جو ابھی تک طویل لاک ڈاؤن کے منفی اثرات سے باہر نہیں نکل پائی۔معیشت کی بہتری کے اشارے مل تو رہے ہیں اور اس کی وجہ کافی مہینوں سے رکی ہوئی مانگ میں اضافہ اور حکومت کی طرف سے ترقیاتی منصوبوں پر اخراجات ہیں لیکن ملک سے روزگار کے مواقع غائب ہو گئے ہیں۔ایک آزاد تھنک ٹینک ’سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی‘ (سی آئی ایم آئی) کے مطابق انڈیا کی بے روز گاری کی شرح دسمبر میں آٹھ فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ یہ سنہ 2020 کے مقابلے میں سات فیصد اور سنہ 2021 کے تمام مہینوں سے بھی زیادہ رہی۔عالمی بینک کے سابق چیف اکاونومسٹ کوشک باسو نے بتایا کہ انڈیا کی تاریخ میں بے روزگاری کی شرح کبھی اتنی زیادہ نہیں رہی خاص طور پر گزشتہ تین دہائیوں میں بشمول 1991 کے جب انڈیا کی معیشت کا یہ حال ہو گیا تھا کہ اس کے پاس درآمدات کے لیے زرمبادلہ نہیں رہا تھا۔دنیا کے بہت سے ممالک کو سنہ 2020 میں بے روزگاری کا سامنا ہے لیکن انڈیا میں یہ شرح بہت سی ترقی پذیر معیشتوں سے کہیں زیادہ ہے۔پروفیسر باسو نے بتایا کہ بنگلہ دیش میں یہ شرح پانچ اعشاریہ تین فیصد، میکسیکو میں چار اعشاریہ سات فیصد اور ویتنام میں دو اعشاریہ تین فیصد ہے۔سی ایم آئی ای کے مطابق تنخواہ دار ملازمتوں میں کمی ہوئی ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ بہت سی نجی کمپنیوں اور اداروں نے عالمی وبا کے دوران اپنے اخراجات کم کرنے کے لیے نوکریوں میں کٹوتیاں کی ہیں۔عظیم پریم جی یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق 15 سے 23 سال کے نوجوان سنہ 2020 میں لاک ڈاؤن سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔عظیم پریم جی یونیورسٹی کے ماہر معیشت امت بھوسلے نے بتایا کہ جن لوگوں کے پاس ماہانہ تنخواہ کی ملازمتیں تھیں ان میں سے نصف اپنی نوکریاں برقرار نہیں رکھ سکے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ نوکریوں میں شدید کمی کی وجہ صرف عالمی وبا نہیں۔پروفیسر باسو کا کہنا ہے کہ انڈیا میں جو صورتحال دیکھنے میں آئی ہے اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ پالیسی سازی میں چھوٹے کاروبار اور مزدوروں کی فلاح و بہبود کا خیال نہیں رکھا گیا۔یہ مایوس کن اعداد و شمار انڈیا میں بے روز گاری کی اصل تصویر پیش نہیں کرتے۔ کام کرنے کی عمر کے لوگوں میں نوکریوں کے متلاشی افراد کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ انڈیا میں کام کرنے والوں میں 15 سال اور اس سے بڑی عمر کی خواتین کا تناسب دنیا بھر میں سب سے کم ہے۔انڈیا میں بے روزگاری کی شرح سے مراد صرف وہ تعلیم یافتہ نوجوان ہوتے ہیں جو رسمی شعبے میں نوکریاں تلاش کر رہے ہوتے ہیں جبکہ غیر رسمی شعبوں میں نوے فیصد لوگ کام کرتے ہیں اور معاشی پیداوار یا آمدن کا نصف سے زیادہ حصہ اسی شعبے سے حاصل ہوتا ہے۔مزدوروں کی معیشت کی ماہر رادھیکا کپور کہتی ہیں کہ ’بے روزگاری ایک ایسی آسائش ہے جس کے مزے صرف تعلیم یافتہ خوشحال لوگ ہی لوٹ سکتے ہیں۔ غریب، غیر ہنر مند یا نیم ہنر مند افراد یہ برداشت نہیں کر سکتے۔‘کوئی جتنا زیادہ تعلیم یافتہ ہو گا اس کے بے روزگار رہنے کا امکان اتنا ہی زیادہ ہو گا اور وہ غیر رسمی شعبوں میں کم تنخواہ پر کوئی کام کرنے کے لیے تیار نہیں ہو گا۔ دوسری طرف ایک غریب جس کو تعلیم تک رسائی حاصل نہیں ہو گی وہ جو کام بھی ملے گا اس کو کرنے کو تیار ہو گا۔