علما کرام پی ایس اے تحت قید کرنے کا معاملہ

زیون پانتھ چوک جنگجوئیانہ حملہ ،2غیرملکی اورایک مقامی جنگجو ملوث:تینوں کاتعاقب شروع

بروقت جوابی کارروائی کے باعث ہتھیار چھیننے کی کوشش کو ناکام : آئی جی پی کشمیر وجئے کمار

سری نگر// انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیرزون وجے کمار نے منگل کو بتایا کہ سری نگر کے مضافات زیون میں سوموارکی شام6بجے پولیس بس پر حملے میں2 غیر ملکی اور ایک مقامی جنگجو ملوث تھے۔جنہوںنے حملے کے دوران ہتھیارچھیننے کی کوشش کی لیکن پولیس اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے ہتھیار چھیننے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔انہوںنے حملے کو منصوبہ بند قرار دیتے ہوئے کہاکہ ایک جنگجو زخمی ہوا اور اس کے خون کے نشان سے پتہ چلتا ہے کہ حملہ آور پانپور اور پھر ترال کے علاقے میں بھاگ گئے اور ہم ان کا سراغ لگا رہے ہیں،اوربہت جلد اُن کوہلاک کیاجائیگا۔جے کے این ایس کے مطابق سوموارکی شام زیون پانتھ چوک میں ہوئے جنگجوئیانہ حملے کے دوران زخمی ہونے کے بعد جاں بحق ہوئے پولیس اہلکار رمیض احمد کے اعزازمیں منعقدہ پھولوں کی چادر چڑھانے کی تقریب کے موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے آئی جی پی کشمیر وجئے کمار نے کہاکہ حملے کے وقت بس میں25 پولیس اہلکار سوار تھے ۔آئی جی پی کشمیر نے کہا کہ اے آر پی کی 9ویںبٹالین کے 25 پولیس اہلکاروں کو سری نگر سے پولیس آرمڈ کمپلیکس زیوان لے جانے والی بس پر پیر کی شام 66 بجے تین جیش جنگجوؤں نے حملہ کیا۔انہوںنے کہاکہ پولیس گاڑی پرحملے میں جیش محمدکوذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہاکہ اس کالعدم تنظیم کے ایک فرضی نام سے بنائے گئے گروپ ’’کشمیر ٹائیگرز‘‘نے یہ بزدلانہ کارروائی انجام دی ۔انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیرزون وجے کمارکاکہناتھاکہ 2 غیر ملکی اور ایک مقامی دہشت گرد نے زیوان میں پولیس بس پر حملہ کیا۔انہوںنے کہاکہ پولیس اہلکاروںکی جوابی کارروائی میں ایک جنگجو زخمی ہوا اور اس کے خون کے نشان سے پتہ چلتا ہے کہ یہ گروپ پانپور اور پھر ترال کے علاقے میں بھاگ گیا اور ہم ان کا سراغ لگا رہے ہیں اور بہت جلد انہیں بہت جلدکردارتک پہنچایا جائے گا۔سینئرپولیس افسر وجئے کمارکمار نے پولیس کے پاس کچھ شواہد اورثبوت بھی ہیں اور ہم ملوث گروپ کا سراغ لگائیں گے۔آئی جی پی کشمیر وجئے کمار نے یہ بھی بتایا کہ سوموارکی شام ہوئے اس حملے میں زخمی ہونے والا ایک اور پولیس اہلکار منگل کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا۔انہوںنے کہاکہ سوموارکی شام، ایک اے ایس آئی سمیت2پولیس اہلکار ہسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے اور منگل کی صبح ایک اور پولیس اہلکار نے دم توڑ دیا۔آئی جی پی کشمیر نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے زیو ن میں ہتھیار چھیننے کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔انہوںنے کہاکہ جنگجوئیانہ حملے کا کا مقصد ہتھیار چھیننا تھا لیکن ہمارے جوانوں نے مؤثر طریقے سے جوابی کارروائی کی اور حملہ آوروں کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔انسپکٹر جنرل آف پولیس کشمیرزون وجے کمارنے حملے کو منصوبہ بند قرار دیتے ہوئے کہاکہ حملے سے قبل جنگجوئوںنے اس علاقے کاجائزہ لیاتھا،اورحملہ عین اس وقت ہوا جب سیکورٹی فورسز کی روڈ اوپننگ پارٹیز کو واپس لے لیا گیا۔اس طرح کے حملوں کو روکنے کیلئے پولیس کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں، آئی جی پی کشمیر کمار نے کہا کہ پولیس ہائی الرٹ ہے اور پولیس اہلکاروں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنے کی ضرورت ہے انہیں بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی جائیں گی۔سینئر پولیس افسر نے کہا کہ مستقبل میں ایسے حملوں کی روک تھام کیلئے حفاظتی اقدامات کئے جائیں گے۔خیال رہے پولیس بس پر حملہ فروری 2019 میں لیتھ پورہ پلوامہ کار بم دھماکے کے بعد کشمیر میں سیکورٹی فورسز پر پہلا بڑا حملہ تھا جس میں سی آر پی ایف کے 40 اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔