سرینگر / /جموں وکشمیر میں گذشتہ کئی برسوں سے رشوت خوری اور کورپشن کے خاتمہ کیلئے مثبت اقدام اٹھانے اور کاروائیاں انجام دینے دعوے کئے جارہے ہیں اور یہ حقیقت بھی کئی بیروکیٹوں اور رشوت خور افسران کے خلاف کاروائیاں عمل میں لائی گئی اور ان کو قانون کے شکنجے میں لایا بھی گیا لیکن اتنا ہی کافی نہیں کیونکہ اس خطے میں کورپشن نے اس طرح اپنا جا ل بچھایا کہ کورپشن یہاں کے نظام کا ایک اٹوٹ انگ بن چکا ہے۔ کیونکہ یہاں کے سرکاری محکموں میںافسر سے لیکر چپراسی تک رشوت لینے کی لت لگ چکی ہے اورکوئی بھی کام سائل سے پیسہ وصولے بغیرنہیں ہوتا اور جن کاموں کیلئے سرکاری افسروں کو رشوت نہیں ملتی ۔حق ہونے کے باوجود بھی حقدار کو کبھی وہ ملتے ہی نہیں ہیں۔سرکاری سطح پر اگر چہ تعمیراتی کاموں کیلئے نیا باب کھولنے کے دعوے کئے جارہے اور اکثر مقامات پر تعمیراتی کام شروع بھی کئے گئے لیکن مفاد عامہ سے پہلے ان تعمیراتی کاموں سے فائدہ اٹھانے کیلئے بہت سے گرد نما انسان منہ کھول کر اس تاک میں رہتے ہیں کہ ان کو اس کام میں کتنا کمیشن حاصل ہوگا اور ناقس میٹرئیل کا استعمال کرکے کتنا ان کے حصے میں بچے گا۔ شہر و دیہات میں تعمیرات کے جو کام ہورہے ہیں ان میں ایک مقررہ شرح کے مطابق ٹھیکہ داروں سے چیف انجینئروں تک ہر کسی کو رشوت مل جاتی ہے۔ جہاں ایک طرف سڑکوں ، عمارتوں، ارگیشن کنالوں ، پانی یا بجلی کی ترسیلی لائنوں کی تقریباً 40فیصد جدیدیت یا مرمت ہوتی ہے وہیںدوسری طرف ٹھیکداروں سے لیکر بڑے بڑے انجینئروں اورافسروںکے کھاتے میں 60%جمع ہوجاتے ہیں اور وہ خزانہ عامرہ سے واگذار ہونے والے رقومات کی بندر بانٹ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے ہیں۔ سرکاری دفتروں میں کام کرنے والے ملازمین ایک طرف اپنی اچھی خاصی تنخواہ حاصل کرتے رہتے ہیں۔لیکن دوسری طرف رشوت کے بغیر ان کوچین نہیں ملتا ہے۔ غریب سائل یہ سوچ کر کہ اس کا کام جلدی ہوجائے اور اسے کچھ فائدہ مل جائے رشوت کی رقم ادا کردیتا ہے۔ بڑے بڑے پروجیکٹ جو یہاں کی حکومت منظور کرتی ہے وہ افسران کیلئے بہت ہی آمدن بخش اور سونے کی کان ثابت ہوتی ہے کیونکہ فنڈس کے بطورواگذار کی جانے والی رقم سے ان کو ایک خاصا حصہ مل جاتا ہے۔ اکثر و بیشتر سرکاری محکموں میں ملازمین وہی کام کرتے ہیں جن میں انہیں اپنی لالچ ہو۔ ۔اگر چہ موجودہ گورنر انتظامیہ اس حوالے سے سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے تاہم رشوت خور اور کورپٹ افسران اپنے ان حرکات سے باز نہیں آتے ہیں ۔دفتروں میںیہ سلسلہ برقرار ہے ۔اس سلسلے میں وادی کے مختلف علاقوں کے لوگوں نے کشمیر پریس سروس کے ساتھ بات کرتے ہوئے بتایا کہ رشوت کے بغیر کسی بھی دفتر میںکوئی کام ممکن نہیں ہوتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ افسران یا ملازمین صرف سائل کو دفتر کے چکر کاٹنے پر اتنا مجبور کرتے ہیں کہ وہ یا تو کام ادھورا چھوڑ دیتا ہے یا رشوت دینے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ رشوت جن لوگوں سے لی جارہی ہے وہ اْف تک نہیں کرتے توشکایت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتاہے کیونکہ ان کے تمام وسائل سے ہونے والی آمدنی سرکاری دفتروں کے چکر کاٹنے کیلئے کرایہ پر خرچ ہورہی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اگر رشوت نہیں دی تو آمد ورفت پر خرچ ہونے والا پیسہ بھی ضائع ہوجائے گا کیونکہ ان کا کام پھر کبھی نہیںہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے سمجھوتہ کرکے کشمیری عوام ذہنی طور اس قدر راضی اور آمادہ ہوچکی ہے کہ سرکاری دفتروں میں اپنا کام کروانے کیلئے خود ہی رشوت کی پیش کش کرتے ہیں انہوں نے کہاکہ جن افراد کے پاس سرکاری ملازمین یا افسروں کو دینے کیلئے پیسے نہیںہوتے ہیںوہ ہر روز صبح سے شام تک دفتروں کا طواف کرکے مایوس ہوکر گھر لوٹ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سماج کا ہر فر رشوت کی بدعت کا رونا روتا ہے لیکن اس سے نکلنے کے حوالے سے کوئی راہ دکھائی نہیں دے رہی ہے کیونکہ لینا والا اور دینے والا دونوں اس بات پر راضی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کاہر فرد اب رشوت کی جھلستی ہوئی آگ کی لپیٹ میں آچکا ہے اور ایسا محسوس کیا جارہا ہے کہ مستقبل قریب میں کشمیرکی نئی نسل کا بچہ بچہ اس بدعت کا شکار ہوجائے گا۔ اس سلسلے میں انہوں نے گورنر انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیرمیں رشوت کی بدعت کو ختم کرنے کیلئے لینے والے اور دینے والے کو ملزم ٹھہرایاجائے اور دونوں کیلئے سزائیں مقرر کی جائیں اور ایک ایسی پالیسی یا منصوبہ مرتب کی جائے جس سے عملی طور پر اس بدعت کا خاتمہ ممکن ہواور عوام کو ان مشکل ترین ایام میں رشوت خوروں کے ظلم سے نجات حاصل ہوجائے۔ (کے پی ایس)










