جموں و کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی کو دھچکا

کانگریس کے اندر انتشار کوختم کرنے کیلئےورکننگ کمیٹی کااجلاس بلایاجائے :غلام نبی آزاد

سرینگر / /پنجاب میں سابق کرکٹر کی جانب سے صدارت کے عہدے سے استفیٰ دینے کے بعد کانگریس کے ایک سینئرلیڈر اور جموںو کشمیرکے سابق وزیراعلیٰ نے قائمام کانگریس صدر کو ایک خط تحریر کیاجس میں سابق وزیراعلیٰ نے کانگریس ورکننگ کمیٹی اجلاس طلب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے ڈیڑھ سال سے کانگریس ورکننگ کمیٹی کاکو ئی اجلاس نہیںہوا جب کہ ایک اور لیڈر نے کہا کہ کانگریس کاکوئی صدر ہی نہیں فیصلے کون لے رہاہے یہ سمجھ سے بالاترہے ۔اے پی آ ئی کے مطابق پنجاب میں کپٹن امرندر سنگھ کے وزارت اعلیٰ کے عہدے سے استفیٰ دینے اور نئے وزیراعلیٰ کومنتخب کرنے کے بعد پنجاب کانگریس کے صدر نوجوت سنگھ سدھو کے جانب سے اپنے عہدے سے مستفی ہونے سے جہاں پنجاب کانگریس میں رساکشی اور کھنچا تا نی عروج پرہے۔ اس دوران کانگریس کے ایک سینئر لیڈر کپل سبل نے پنجاب کی صورتحال پرتشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کاکوئی صدر ہی نہیں فیصلے کون لے رہاہے یہ سمجھ سے بالاترہے جب ان سے یہ پوچھاگیا کیا جی ٹونٹی کے ساتھ اب بھی ہے تو انہوںنے سوال کاجواب دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ جی ٹونٹی کانہیں ہے بلکہ کانگریس کی بقا کا ہے ہم کانگریس بچاناچاہتے ہے اس سلسلے میں کسی کی اناَ کوٹھیس پہنچانانہیں ہے ۔ادھرجموں وکشمیرکے سابق وزیراعلیٰ اور کانگریس کے سینئرلیڈر غلام نبی آزاد نے قائم مقام کانگریس صدر سونیاگاندھی کوایک خط ارسال کیاہے جس میں انہوںنے مطابہ کیاکہ کانگریس ورکننگ کمیٹی کااجلاس جلد سے جلد طلب کیاجانا چاہئے تاکہ کانگریس کے اندر جو کھنچا تانی کی صورتحال بنی ہوئی ہے اس سے دور کیاجاسکے ۔انہوںنے خط میں لکھاہے کہ پچھلے ڈیڑھ سال سے کانگریس ورکننگ کمیٹی کاکوئی اجلاس نہیں ہوا ہے اور ضرورت اس امرکی ہے کہ کانگریس ورکننگ کمیٹی کااجلاس بلایاجاناچاہئے جس میں پارٹی کے اندر پیداشدہ صورتحال پرغور کرتے ہوئے ان معاملات کودور کیاجاسکے جن کی وجہ سے کانگریس انتشار کاشکار ہوچکی ہے ۔