سری نگر//فوج نے اوڑی میں حد متارکہ پر دراندازی کی کوشش کو ناکام بناتے ہوئے ایک جنگجو کو جاں بحق کیا جبکہ پنجاب پاکستان کے لشکر طیبہ کے 19سالہ جنگجو کو گرفتار کرلیا۔اس دران دوطرفہ فائرنگ میں فوج کے4اہلکار زخمی ہوگئے۔کشمیر نیوز سروس کے مطابق اوڑی میں حدمتارکہ پراوڑی میںفوج نے 6عسکریت پسندوں کے ایک گروپ کو سرحد کے اِس پار آتے ہوئے دیکھ لیا۔ اس موقعہ پر فوج نے انہیں ہتھیار ڈال کررکنے کا اشارہ کیا تاہم جنگجوئوںنے فوج پر گولیاں چلائیں۔ فوجی اہلکاروںنے پوزیشن سنبھال کر جوابی کارروائی کی جس کے دوران دوطرفہ فائرنگ کے تبادلہ میں ایک جنگجو مارا گیا جبکہ دوسرے جنگجو کو گرفتار کرلیاگیا۔دو طرفہ فائرنگ میں 4فوجی اہلکاربھی زخمی ہوگئے جنہیں فوری طور پر علاج و معالجہ کیلئے فوجی ہسپتال لے جایاگیا۔ فوج کی طرف سے کئے گئے آپریشن کے بارے منگلوار کواوڑی میں پریس کانفرنس دیتے ہوئے 19انفنٹری ڈویژن کے جی او سی میجرل جنرل وریندر نے کہاکہ 18ستمبر کی شب فوج نے اوڑی میں حدمتارکہ پر دراندازی کی کوشش دیکھی گئی اور فوجی اہلکاروںنے فائرنگ کی۔ انہوںنے کہا کہ 6جنگجوئوں پر مشتمل گروپ میں4جنگجو سرحد کے اُس پار تھے اور گھنے جنگلات اور تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ پاکستان کی طرف چلئے گئے۔ میجر جنرل وریندر نے مزید کہاکہ 2جنگجو بھارتی حدود میں داخل ہونے میں کامیاب ہوگئے اور اضافی فورسز تعینات کرکے وسیع پیمانے پر تلاشی کارروائی شروع کی۔ انہوںنے کہاکہ چونکہ علاقہ میں شہری آبادی مقیم ہے اور کسی شہری کا کوئی جانی نقصان نہ ہو، فوج نے احتیاط سے آپریشن جاری رکھا۔ انہوںنے کہاکہ 18ستمبر کی شب دونوں جنگجوئوںنے فوجی محاصرہ توڑنے کی کوشش کی جسے ناکام بنایاگیا۔ انہوںنے کہاکہ اوڑی میں اس آپریشن کے بارے میں بہت ساری قیاس آرائیاں کی جارہی تھیں ۔ انہوںنے کہاکہ 25ستمبر کی شام فوج نے دونوں جنگجوئوں کو ایک نالہ کے قریب پایا اور دوطرفہ فائرنگ میں 26ستمبر کی صبح ایک جنگجو مارا گیا جبکہ دوسرے جنگجو نے جان بچانے کیلئے فوج کے سامنے ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی۔کے این ایس کے مطابق میجر جنرل وریندر نے مزید کہاکہ بھارتی فوج نے ضابطہ اخلاق اور اقدار کامظاہرہ کرتے ہوئے نہتے درانداز پر گولیاں نہیں چلائیں اور اسے زندہ گرفتار کیاگیا۔ میجر جنرل وریندر نے کہاکہ گرفتار کئے گئے 19سالہ جنگجو بابر علی پاترا ولد مرحوم محمد لطیف کا تعلق ریپال پورہ ضلع اوکارہ پنجاب پاکستان سے ہے۔ انہوںنے کہاکہ مذکورہ جنگجو نے دوران تفتیش اس بات کا اعتراف کیا کہ اُس کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے اور 2019میں خیبر کیمپ گڑھی حبیب اللہ مظفر آباد میں3ہفتوں کی اسلحہ کی تربیت حاصل کی ہے۔ میجر جنرل وریندر نے کہاکہ فوج نے آپریشن کے دوران اے کے سیریز کی7رائفل،9پستول اور ریوالور کے علاوہ مختلف اقسام کے80ہتھ گولے اور بھارتی اور پاکستانی کرنسی برآمد کی ہے۔










