جموں//جموں میں جیو سنٹر کھولنے کے خلاف چیمبر آف کامرس اینڈ اندسٹریز کی جموں بند کال پر مکمل بند رہا ہے جس دوران پوررے جموں میں معمولات زنددگی بری طرح متاثر رہی جس دوران تاجروں نے اس فیصلے کے خلاف زوردار احتجاج کر کے یہاں اس اقدام کو یہاں تاجروں کی روزی روٹی کو چھینے سے تعبیر کیا ہے ۔ نمائندےکے مطابق چیمبر آف کامرس اینڈ اندسٹریز کی جموں بند کال پر بدھ کے روز جہاں جموں کے بازار بند رہے وہیں جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی اور کئی تجارتی انجمنوں نے سٹی میں جیو اسٹور کھولنے کے خلاف احتجاج بھی درج کیا۔سرکار کی جانب سے جموں میں جیوں سٹور کھولنے کے خلاف بدھ کو کئی سیاسی و تجارتی انجمنوں نے اس بند کال کی حمایت کی تھی جس دوران یہاں علاقے میں تمام طرح کے کار باری ادارے بند رہے ہیں جبکہ سڑکوں سے بھی پبلک ٹرانسپورٹ غائب رہا ہے ۔اس احتجاج میں تقریباً ہر ٹریڈ سے وابستہ لوگوں نے حصہ لیا اور اسکو جموں کے تاجر برادری کے خلاف قرار دیا ہے ۔احتجاجی لوگوں نے بتایا اس اقدام سے لوگوں کی روزی روٹی متاثر ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا جموں کے لوگوں کو غیر ضروری طور تنگ طلب کیا جا رہا ہے ۔اس دوران کار باری افراد کے علاوہ جموں و کشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی کے کارکنوں نے پارٹی لیڈر ہرش دیو سنگھ کی سربراہی میں احتجاج درج کرتے ہوئے سرکار کا پتلہ نذر آرتش کر دیا اور سرکار کے خلاف جم کر نعرہ بازی بھی کی۔اس موقع پر ہرش دیو سنگھ نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی سرکار لگاتار جموں کے لوگوں کو نظر اندز کر رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت میں لوگوں کے جذبات کی کوئی قدر نہیں کی جا رہی ہے۔موصوف لیڈر نے کہا کہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کو گھٹا کر ڈوگروں کی توہین کی گئی۔انہوں نے کہا کہ بے روز گار نوجوانوں کے ساتھ زیادتی کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کوئی سننے والا ہی نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے جنم دن پر سرکاری چھٹی رکھنے کے صرف وعدے کئے جا رہے ہیں جبکہ اس کو عمل میں نہیں لایا جا رہا ہے










