اگست2020میں اغواشدہ مقامی فوجی ،414روز بعدنعش محمدپورہ کولگام سے برآمد

اگست2020میں اغواشدہ مقامی فوجی ،414 روز بعد نعش محمدپورہ کولگام سے برآمد

کولگام//گزشتہ برس ماہ اگست میں اغواء شدہ ضلع کولگام کے فوجی اہلکارکی بوسیدہ نعش414روز بعداسی ضلع کے محمد پورہ علاقہ میں بدھ کی صبح بر آمدہوئی ۔خیال رہے فوج کی ٹریٹوریل آرمی سے وابستہ مقامی فوجی جوان شاکرمنظورکومشتبہ جنگجوئوںنے 2اگست2020کو اغواکرکے لاپتہ کردیاتھا۔جے کے این ایس کے مطابق جنوبی کشمیر کے ضلع کولگام کے محمد پورہ گائوںمیں بدھ کی صبح بر آمد ہونے والی لاش کی شناخت سال گذشتہ کے ماہ اگست سے لاپتہ ٹریٹوریل آرمی سے وابستہ ایک مقامی فوجی اہلکار کے بطور ہوئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ کولگام کے محمد پورہ گائوں میں نصب ایک بی ایس این ایل ٹاور کے نزدیک بدھ کی صبح جس سڑی ہوئی عدم شناخت لاش کو پولیس نے اپنی تحویل میں لیا تھا اس کی شناخت ٹریٹوریل آرمی کی 162ویں بٹالین سے وابستہ شاکر منظور ساکن ریشی پورہ ہرمین کولگام کے بطور ہوئی ہے۔معلوم ہواکہ ایک سال سے لاپتہ مقامی فوجی جوان شاکرکے والد منظور احمد وگے نے بھی نعش کی شناخت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ میرے بیٹے کی لاش ہے۔ذرائع نے بتایاکہ پولیس نے مقامی فوجی جوان کی نعش کاڈاکٹروں کی ایک ٹیم کے ذریعے پوسٹ مارٹم کرایااور نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کیلئے فارنسک لیبارٹری روانہ کر دئیے گئے ۔خیال رہے ٹریٹوریل آرمی کی 162ویں بٹالین سے وابستہ فوجی شاکرمنظورکوجنگجوئوں نے 2،اگست2020کوضلع شوپیان سے اغواء کیاتھا ،اوراُسکی گاڑی زیررجسٹریشن نمبرJK22B-3960کوکولگام ضلع کے نیہامہ علاقہ میں نذرآتش پایاگیا تھا۔پولیس کے مطابق شاکر منظور چھٹیاں لیکر عیدمنانے کیلئے گھرآیا ہواتھا،اوراس دوران اُس کواغواکیا گیاتھا۔پولیس اورفورسزنے لاپتہ یااغواشدہ فوجی جوان شاکر منظورکی بڑے پیمانے پرتلاش شروع کردی تھی اور7،اگست2020کوسیکورٹی اہلکاروں نے مغویہ فوجی جوان کے خون آلودکپڑے ضلع کولگام کے لندورہ نامی گائوں میں ایک میوہ باغ سے برآمد کئے تھے ۔اب اس لاپتہ اورمغویہ فوجی جوان کی سڑی ہوئی نعش کوٹھیک ایک سال49دن یاکل414روزبعدضلع کولگام کے محمدپورہ نامی گائوں سے برآمد کیاگیا ۔