سری نگر//پیوپلز ڈیموکریٹک فرنٹ کے چیئرمین حکیم یاسین نے کشمیر سے ملک کی دوسری میوہ منڈیوں کے لئے جارہی میوہ ٹرکوں کو قومی شہراہ ،44 پر تین تین دنوں تک مختلف بہانوں پر روکے رکھنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کیونکہ ایسا کرنے سے ٹرکوں میں بھرا ہوا میوہ منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی خراب ہو جا تا ہے۔کشمیر نیوز سروس کو موصولہ بیان میں حکیم یاسین نے کشمیر سے باہر جا رہی میوہ ٹرکوں کو قومی شہراہ 44 پر جگہ جگہ کئی دنوں تک روکے رکھنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا کہ وہ کشمیر سے میوے کو ملک کی دوسری میوہ منڈیوں تک پہنچانے کے لئے انتظامات کریں۔انہوں نے ٹریفک پولیس ، ٹرانسپورٹ اور باغبانی محکموں کے اعلیٰ حکام پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنایے کہ کشمیر سے جا رہی میوہ سے بھری ٹرکوں کو کسی بھی صورت میں قومی شہراہ پر طویل عرصے تک روک کے نہ رکھے تاکہ میوہ کر نہ جانے اور میوہ اگانے والے کسانوں اور میوہ تاجروں کو کسی مالی نقصانات ؎سے دو چار نہ ہو نا پڑے۔پی ڈی ایف چیرمین نے یاد دلایا کہ اگست سے لیکر آج تک مسلسل کرونا وائرس لاک ڈاؤن کی وجہ سے میوہ صنعت کو پہلے ہی سے کافی خسارے کا سامنا کرنا پڑا ھے اور میوہ اگانے والے کسان اب مزید کسی ?نقصان کو برداشت نہیں کر سکیں گیں۔انہوں نے حکومت پر ذور دیا کہ وہ میوہ کو کشمیر سے باہر لے جانے کے لئے مناسب نرخوں پر ٹرکوں کی وافر مقدار میں دستیابی کو یقینی بنائیں۔حکیم یاسین نے مرکزی وزراء کے دورہ کشمیر پر راے زنی کرتے ہوئے کہا کہ ان کو عالیشان میٹنگ حالوں میں بیٹھ کر پریس نوٹ اجرا کرنے کے بجائے زمینی سطح پر عام لوگوں سے ملنا چاہیے تاکہ ان کو عام لوگوں کو درپیش اصلی مشکلات اور مسایل کا پتہ چل سکے۔ مگر مقامی بیروکریسی اپنی نا کامیوں کو چھپانے کے لئے ان مرکزی وزراء کو عام لوگوں سے ملنے کا کبھی بھی موقعہ نہیں دینگے۔انہوں نے کہا کہ مقامی بیروکریسی اؤر عام لوگوں کے درمیان وسیع خلیج اور رابطے کا فقدان پایا جاتا ہے جس کی وجہ سے لوگوں کے مشکلات اور مسایل میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی صورت حال کے پیش نظر جموں وکشمیر میں فوری طور اسمبلی انتخابات کا منعقد کرانا نا گزیر بن گیا تاکہ لوگ اپنے چنے ہوئے عوامی نمائندوں کے ذریعے اپنے مسائل کو حل کروا سکیں ۔










