سرینگر//افغانستان کے حالات کے چھ برسوں تک جائزہ لینے والی امریکی سینٹر نے اس بات کاانکشاف کیاہے کہ طالبان کے اقتدار میں آنے سے جموںو کشمیر متاثرہوسکتاہے اور جنوبی ایشاء کے حالات میں بڑے پیمانے پرتبدیلیاں رونماء ہونے کے امکانات کوخارج نہیں کیاجاسکتا ۔شدت پسند وں کے پاس وہ تمام وسائل موجود ہے جو15اگست 2021سے پہلے ان کے پاس نہیں تھے پاکستان نے دور اندیشی کامظاہراہ نہیں کیااو ر شدت پسندوں کولگام کسنے کے لئے اقدامات نہیں اٹھائے تو بھارت پاکستان کے مابین کشیدگی میں مزیداضافہ ہوسکتاہے اور دونوں ممالک کے درمیان خلیج کافی حد تک بڑ جائیگی جس سے پاٹنامشکل ہی نہیں ناممکن ہوگا۔اے پی آئی نیوز ڈیسک کے مطابق چھ سال تک افغانستان کاجائزہ لینے والے امریکی سینٹر مشل والٹر نے اس بات کاانکشاف کیاکہ جنوبی ایشاء کے حالت بڑی تیزی کے ساتھ بدلنے کے امکانات موجود ہے اوراس بات سے انکار نہیں کیاجاسکتاہے کہ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آ نے کے بعد جموںو کشمیرمتاثر نہیں ہوگا ۔امریکی سینٹر نے کہاکہ افغان طالبان حقانی نیٹ ورک لشکرطیبہ جیش محمدجیسی انتہاء پسندتنظیموں کے درمیاں قریبی رابط ہے اور اگر پاکستان نے دور اندیشی صبر وتحمل اور دہشت گردی کوجڑ سے اُکھاڑ پھینکنے کے لئے سخت رویہ اختیار نہیں کیاتو شدت پسند بے لگام ہونگے اور جموںو کشمیرکارُخ کرنے سے کوئی انہیں روک نہیں پائیگا امریکی سینٹر نے کہاکہ اگر چہ بھارت سمیت کئی ممالک پہلے ہی اس بات کااعادہ کر چکے ہے کہ طالبان اور جیش محمد حقانی نیٹ ورک لشکرطیبہ کے مابین روابط ہے اور یہ روابط بھارت سمیت کئی ممالک کے لئے نقصان دہ ہے او رافغانستان کی سرزمین بھارت مخالف سرگرمیوںکیلئے استعمال ہوسکتی ہے اور پاکستان حالات کی نزاکت کافائدہ اٹھاکربھارت کوجموںو کشمیرمیں تنگ کرنے کاکوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دے گا ۔امریکی سینٹر نے کہا کہ بھارت پاکستان کے مابین اگرسیاسی قیادت نے صبر وتحمل دوراندیشی کامظاہراہ نہیں کیاتو اس کے بھیانک نتائج بر آمدہونگے ۔افغانستان میں چھ برسوں تک رہنے والے سینٹر نے بھارت پاکستان کی سیاسی قیادت پرزور دیاکہ وہ موجودہ صورتحال کے روح کواپنی طرف موڑنے لگام کسنے اور صبر وتحمل سے کارروائیاں شروع کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے نہیں تودونیو کلیئرطاقتوں کے مابین اختلافات میں شدت آسکتی ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے سے کافی دورچلے جائینگے ۔امریکی سینٹر نے خبردارکرتے ہوئے کہا کہ صورتحال کوقابوکرنے کے لئے افغان طالبان پاکستان اور بھارت کومل جل کرکام کرنا ہوگا اور اگرایسا نہ کیاگیاتو نتائج کافی سنگین ہونگے اور یہ بھارت پاکستان سیاسی قیادت کی سب سے بڑی ناکامی ہوگی ۔سینٹر نے بھارت پاکستان کی فوج کودور اندیش قرار دیتے ہوئے کہاکہ دونوں ممالک کی افواج سرحدوں کی حفاظت کویقینی بنانے کے ساتھ ساتھ تعلقات کوبہتربنانے میں اہم رول اداکر سکتی ہے تاہم دونوں ممالک میں ایسی قوتیں موجودہے جوفوج سے بھی زیادہ طاقتور ہے اورفوج کوبھی خاموشی اختیار کرنے پرمجبور ہوناپڑتاہے ۔
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے راجوری کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے سُنگل ٹنل کی پیش رفت کا معائینہ کیا
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے راجوری میں سیلاب کے بعد کے جائزے کے دوران اِمداد اورباز آباد کاری میں بہتری کی یقین دہانی کی
سکینہ اِیتو نے کے بی پورہ میں ’میگا ہیلتھ کیمپ ‘ کا اِفتتا ح کیا
جاوید رانا نے پونچھ میں لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا
چیف سیکرٹری نے ایس کے آئی سی سی میں آئی ایف اے ڈِی پروجیکٹ پارٹنر ز لرننگ فورم ۔2026 کا اِفتتاح کیا
ڈِی آئی پی آر نے مقامی فلمی صلاحیتوں کو فروغ دینے کیلئے آئی ایف ایف جے کے ایمرجنگ فلم میکرز کمپٹیشن۔2026 کا اعلان کیا
جموں و کشمیر میں رواں سال 35 بادل پھٹنے کے واقعات میں 31 ہلاکتیں
وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے رائیل سپرنگس گالف کورس میں پی جی ٹی آئی گالف ٹورنامنٹ کا آغاز کیا
نائب وزیراعلیٰ نے جے کے منرلزلمٹیڈکی 176 ویں بورڈ آف ڈائریکٹرز میٹنگ کی صدارت کی










