علما کرام پی ایس اے تحت قید کرنے کا معاملہ

وادی سے تعلق رکھنے والے 60نوجوانوں کے لاپتہ ہونے کی خبر بے بنیاد / آئی جی پی

سرینگر//کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل نے ان خبروں کی سختی سے تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ جب سے طالبان کا کنٹرول افغانستان پر ہوا ہے تب سے اب تک وادی سے تعلق رکھنے والے 60نوجوان پُر اسرار طور پرلاپتہ ہوچکے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ ان خبروں کی کوئی صداقت نہیں ہے اور اس طرح غلط پروپگنڈا کرنے والے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے خلاف کارروائی ہوگی ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق جموں و کشمیر پولیس نے بدھ کو کشمیر میں گزشتہ دو مہینوں میں تقریبا ساٹھ نوجوانوں کے لاپتہ ہونے کے بارے میں این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کو غلط قرار دیا ۔ کشمیر پولیس کے انسپکٹر جنرل نے بتایا ہے کہ ان خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے اور ناہی جموں کشمیر اور افغانستان کے حالات کا موازنہ ہے ۔ آئی جی پی کشمیر وجے کمار کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس نے ایک ٹویٹ میں کہا’’کچھ سوشل میڈیا پلیٹ فارپر بتایا جاتا ہے کہ افغانستان کے طالبان کے قبضے کے دوران 60 نوجوان وادی کشمیر کے مختلف حصوں سے غائب ہو گئے ہیں۔ یہ مکمل طور پر جعلی خبر ہے‘‘۔ انہوںنے کہا کہ سوشل میڈیا پر غلط پوسٹ اپ لوڈ کرنے والوں اور ایسے ویڈیوز چلانے والوں کے خلاف سائبر قانون کے تحت کارروائی کی جائے گی ۔ یاد رہے کہ پیر کو این ڈی ٹی وی نے ایک سینئر پولیس افسر کے حوالے سے بتایا تھا کہ کشمیر میں گزشتہ دو مہینوں میں تقریبا 60 نوجوان اپنے گھروں سے لاپتہ ہوئے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ 300 کے قریب عسکریت پسندوں نے کنٹرول لائن کے اس پار حالیہ طالبان کے افغانستان پر قبضے کے بعد حوصلہ افزائی پاکر کیمپوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ پولیس نے واضح کیا کہ جموں کشمیر میں اس طرح سے کسی بھی نوجوان کی جانب سے لاپتہ ہونے کی کوئی رپورٹ درج نہیں کی گئی ہے اور ناہی اس تعداد میں نوجوان لاپتہ ہوئے ہیں۔