سرینگر//جموں وکشمیر میں آدھار کارڈ حاصل کرنا بھی اب جوئے شیر لانے کے مترادف ہوگیاہے سرکاری اداروں کی لاپرواہی اور غفلت کی وجہ سے لوگوں کی ایک کثیر تعداد اب بھی جموں وکشمیر میں آدھار کارڈ سے محروم ہے اور ایسے لوگ سرکار کی جانب سے شروع کی گئی مختلف اسکیموں راشن سفری دستاویزات حاصل کرنے بجلی پانی کاکنکشن لگانے سے بھی محروم ہوکررہ گئے ہیں ۔محکمہ مال کی جانب سے ہرایک شہری کوآدھار کارڈ فراہم کرنے کایقین تو دلایاگیاتاہم بڑی تعداد میں ایسے آدھارکارڈاجراء کئے گئے جن پرفوٹو شوہرکااور نام اسکی اہلیہ کاتھااور ایسے لوگوں کوپھردوبارہ ا ٓدھارکارڈ اجراء ہی نہیں کئے گئے ۔اے پی آ ئی کے مطابق2009میں یوپی اے حکومت نے ملک کے ہرایک شہری کے لئے آدھار ارڈ کولازمی قرار دیااور اس وقت کی سرکار نے نوماہ کے اندر اندر ملک کے ہرایک شہری کوآدھار کارڈ اجراء کرنا لازمی قرار دیاملک کی دوسری ریاستوں مرکزی زیرانتظام علاقوں میں اعداد شمار کے مطابق 90% لوگوںکووقت پراور بغیرکسی مشکل کے آدھارکارڈ اجراء کئے گئے جموں کشمیرمیں آدھارکارڈ کے سلسلے میں مرکزی حکومت کااعلان یاتوسنانہیں گیایااس پرعمل نہیں کی گئی بوت لیول ورکروں کوہرایک شہری کے گھر جانے کی ہدایت کی گئی جہاں اس سے فوٹوکھنچوانے اور اس کے تمام تفصیلات درج کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی جموں وکشمیرمیں بوت لیول ورکروں کی جانب سے جوآدھار کارڈ بنائے گئے ان میں فحش غلطیاں پائی گئی اس صورتحا ل کے بعدسرکا رنے کئی پرائیویٹ کمپنیوں کے ساتھ آدھار کارڈ اجراء کرنے کاسلسلہ شروع کیاوادی کشمیرمیں یہ سلسلہ بھی دم توڑ گیا۔اس وقت جموں وکشمیرمیں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اب بھی آدھار کارڈوں سے محروم ہے خدمت سینٹروں محکمہ مال کے دفتروں جموںو کشمیر بینک برانچوں پرجاتے جاتے ایسے لوگ تھک کرہار گئے اور ایسے ہزاروں لوگ جہاں آدھار کارڈسے محروم ہیں وہی وہ سرکار کی جانب سے شروع کی گئی اسکیموں سے بھی وہ فائدہ حاصل نہیں کرپارہے ہے جسکے لئے ان اسکیموںکوبروئے کار لایاگیاتھا جہاں یہ لوگ سرکاری اسکیموں سے فائدہ نہیں اٹھارہے ہے وہی پاسپورٹ نکالنے سرکاری نوکری حاصل کرنے راشن گھاٹوں سے غذائی اجناس حاصل کرنے جاب کارڈ بنانے سے بھی محروم رہ گئے ہے ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کوکب اور کس طرح سے آدھارکارڈاجراء کئے جائینگے اس سلسلے میں صوبائی انتظامیہ کی خاموشی حیران کن ہے اور ایسے لوگوں کاماننا ہے کہ سرکار نے اب آدھار کارڈوں سے محروم لوگوں کویہ کارڈ اجراء کرنا ایک فضول مشک قرار دی ہے ۔وادی کے دس اضلاع میں ایک اندازے کے مطابق ڈیڑھ سے دو لاکھ افراد آدھار کارڈوں سے محروم ہے اور اتنی بڑی تعداد میںلوگوں کاآدھارکارڈوں سے محروم رہنا ان کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے جب سرکا رنے آدھارکارڈ کولازمی قرار دیاہے ۔










