سرینگر //سیکرٹری قبائلی امور اور سی ای او مشن یوتھ نے لفٹینٹ گورنر منوج سہا کی ہدایات کے مطابق ہندوجا گروپ اور اشوک لی لینڈ کے سینئر عہدیداروں اور نمائندوں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی تا کہ نوجوانوں کے لئے روز گار اور کاروباری مواقع پیدا کئے جا سکیں ۔ ڈاکٹر ایس کے چڈھا کی قیادت میں ہندوجا گروپ کی ٹیم نے16 کروڑ روپے بطور سبسڈی تعلیم ، بینکنگ آؤٹ ریچ اور سیاحت کے فروغ دینے کے اقدامات کے علاوہ ہیں ۔ سنجیو کمار ہیڈ آف مارکیٹنگ ڈویژن ، راما نجوت سنگھ اشوک لی لینڈ کے ایریا منیجر اور منیندر پال سنگھ انڈس انڈ بینک کے اسٹیٹ ہیڈ ، او ایس ڈی مشن یوتھ تابش سلیم اور دیگر اعلیٰ حکام نے میٹنگ میں شرکت کی ۔ میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا گیا کہ ممکن سکیم کے تحت 1000 کمرشل گاڑیاں اگلے دو مہینوں میں فراہم کی جائیں گی اور بھاری مانگ کے پیش نظر اس اسکیم میں بھاری کمرشل گاڑیاں اور مشینیں بھی شامل کی جائیں گی ۔ ٹرانسپورٹ کے شعبے میں مواقع کا انتخاب کرنے والے نوجوان اس سکیم کے تحت ہنر مند ہوں گے اس کے علاوہ مختلف دیگر مراعات کی فراہمی بھی ہو گی ۔ یہ فروپ اپنی کارپوریٹ سماجی ذمہ داری کے تحت اسکولوں میں معیاری ترقی کے اقدامات بھی کرے گا جس میں نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور صلاحیتوں کی تعمیر پر توجہ دی جائے گی ۔ سی ای او مشن یوتھ نے ملاحظہ کرنے والی ٹیم کے ساتھ مختلف شعبوں جیسے تعلیم ، ہُنر مندی ، خود روز گار ، تقرری ، تحقیق ، ثقافت ، تفریح ، کھیل ، آرٹ ، ادب اور دیگر شعبوں میں نوجوانوں کی خواہش کے مطابق مواقع کیلئے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ۔ ڈاکٹر ایس کے چڈھا نے مختلف اسکیموں کے تحت نوجوانوں کی زیادہ سے زیادہ سے زیادہ کوریج کے عزم کی تٖصدیق کی اور مشن یوتھ کی تجاویز اور اسکیموں کی حمایت کی جس کا مقصد نوجوانوں کی شمولیت اور بااختیار بنانا ہے ۔ انہوں نے کٹھوعہ اور بڈگام میں قائم ہونے والے ہُنر مندی کے مراکز کے بارے میں بھی آگاہ کیا جو ابھرتی ہوئی مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مستقبل میں نوجوانوں کی ہنر مندی کیلئے فوکل پوائنٹس ہوں گے ۔










