سری نگر//جموں کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے منگل کو کہا کہ صرف اتحاد ہی لوگوں کو دھونس ودبائو ، جبر اور ظلم سے نکال سکتا ہے۔کشمیر نیوزسروس کے مطابق سابق وزیراعلیٰ ڈاکٹرفاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پرمنعقدہ عوامی اتحاد برائے گپکار اعلامیہ کے اجلاس ،جس میں اتحاد کی سبھی اکائیوںکے لیڈر ،ذمہ دار اورسینئر اراکین موجود تھے ،سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ بہت زیادہ دباؤ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس دبائو سے نمٹا جاسکتا ہے اور اتحاد سے ہی اس دبائو سے چھٹکارا پایا جاسکتا ہے جو وقت کی ضرورت ہے۔پی ڈی پی صدرنے کہاکہ ہمیں بہت زیادہ دباؤ کا سامنا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ الیکشن کب لڑے جاتے ہیں لیکن یہ وقت اتحاد کا ہے۔محبوبہ مفتی نے اجلاس میں موجود سیاسی لیڈروں اورکارکنوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہاکہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ تمام پریشانیوں سے باہر نکلیں تو آپ کو متحد ہونا پڑے گا، سب کی نظریں ہم پر ہیں۔انہوں نے خبردارکیاکہ الجھن اور غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور ہم ثابت قدم اور محتاط ہیں۔ کئی کارکنوں کو کچھ عناصر نے گمراہ کیا جنہوں نے مجھے فون کیا کہ انہوں نے سنا کہ آج کیPAGD میٹنگ منسوخ کر دی گئی ہے۔محبوبہ مفتی نے کہاکہ بی جے پی والوں کو بغیر کسی پابندی کے ملنے کی اجازت ہے۔ حال ہی میں اپنی پارٹی نے بانڈی پورہ میں یوتھ کنونشن کا انعقاد کیا لیکن ہمیں ایک یا دوسرے بہانے سے روکا جا رہا ہے، یہ مکمل بندش ہے اوراس کا حجم بولتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ آرٹیکل 370 واپس نہیں آئے گا، انہیں اللہ تعالیٰ پر یقین نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اُمید نہیں ہارنی چاہیے۔پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی کاکہناتھاکہ آرٹیکل370 نے ہماری زمین اور نوکریوں کو محفوظ بنایا تھا ، لیکن اب بیرونی لوگ چھاپے مار رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ کس طرح بیرونی لوگوں نے ریت نکالنے کے معاہدوں کو کنٹرول کیا ہے،حال ہی میں پلوامہ میں ، پولیس بیرونی لوگوں کے مفادات کے تحفظ کیلئے مقامی ریت کے ٹھیکیداروں کے خلاف لاٹھی چارج کر رہی تھی۔سابق وزیراعلیٰ نے الزام لگایاکہ این ایچ پی سی نے ہمارے وسائل اور بجلی کے منصوبوں کو کیسے لوٹا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی ایسی پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جن کو سمجھنا مشکل ہے۔ ایک دن وزیر اعظم کہتے ہیں کہ انہیں کشمیر میں لوگوں کے دل جیتنے ہیں اور دوسرے دن ان کے کچھ لیفٹنٹ کشمیریوں کو دھمکیاں دیتے ہیں۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ کشمیریوں کو بندوق کی نوک پر خاموش کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزیدکہاکہ کشمیری ششدر ہیں، وہ اپنا اظہار نہیں کر سکتے۔PSA سچ بولنے والوں کا انتظار کر رہا ہے،صحافیوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے ، گرفتار کیا جا رہا ہے ، پاسپورٹ حاصل کرنے سے محروم کیا جا رہا ہے۔محبوبہ مفتی کے بقول شمالی کشمیر کے بانڈی پورہ میں فوج کی گاڑی نے ایک بوڑھی عورت کو کچلاتوا حادثے کا ویڈیوبنانے والے پر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ یہ جبر اور بے شرم کی حدہے۔محبوبہ مفتی نے کہا کہ کسی کا نظریہ بندوق کی نوک پر یا لاٹھی استعمال کرنے سے نہیں بدلا جا سکتا۔










