People are suffering from diseases due to accumulation of garbage in Achhan Syedpura

اچھن سید ہ پورہ میں کوڑاکرکٹ جمع ہونے سے لوگ بیماریوں میں مبتلا

سرینگر//سید ہ پورہ اچھن عید گاہ سرینگر میں کوڑا کرکٹ کو سائنٹفک طریقے سے ٹھکانے لگانے میں میونسپلٹی ناکام ہوچکی ہے ۔ جبکہ کوڑا کرکٹ پر گزشتہ تین ماہ سے ادویات نہ چھڑکنے کی وجہ سے گندگی و غلاظت کے سے اُٹھنے والی بدبو آس پاس کے مکینوں کیلئے وبال جان بن گیا ہے جبکہ اس کی تیز بدبو سے لوگ کئی طرح کی بیماریوں میں بھی مبتلاء ہوچکے ہیں ۔ سید پورہ اچھن عید گاہ سرینگر میں کوڑا کرکٹ و غلاظت کو شہر سرینگر کے مختلف علاقوں سے لاکر وہاں ڈالا جاتا ہے اور میونسپلٹی نے وہاں ڈمپنگ سائٹ قائم کرکے سرکار کو یہ یقین دلایا تھا کہ شہر بھر سے لائی گئی گندگی کو وہاں سائنسی طریقے سے ضائع کیا جائے گا تاہم میونسپلٹی ایسا کرنے میں ناکام ہوچکی ہے ۔ ڈمپنگ سائٹ600کنال اراضی پر پھیلی ہے اور روزانہ ایک سو سے زائد گاڑیوں میں شہر کا کوڑا کرکٹ وہاں ڈالا جاتا ہے جبکہ میونسپلٹی نے وہاں کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کیلئے جو مشین نصب کی ہے وہ محض دن میں 10گاڑیوں کے کوڑا کرکٹ کو ہی ٹھکانے لگاسکتی ہے جبکہ دیگر 90سے زائد گاڑیوں کا کوڑا وہاں جمع ہوتا ہے ۔ اس کے علاوہ کوڑ ا سے اُٹھنے والی بدبو پر قابو پانے میں کوڑا کے ڈھیروں پر ادویات چھڑکنے سے بدبو ختم ہوجاتی ہے ۔ لیکن ستم ظریفی یہ ہے کہ میونسپلٹی نے گذشتہ 3ماہ سے کوڑے پر کوئی دوائی نہیں چھڑکی ہے جس کے نتیجے میں وہاں بدبو پھیل جاتی ہے اور آس پاس کے علاقوںمیں رہنے والے لوگوں کے لئے باعث عذاب بن جاتی ہے ۔ اس حوالے سے مقامی لوگوں نے کہا ہے کہ سرکار سے ہمارا مطالبہ تھا کہ اس ڈمپنگ سائٹ کو کسی دوسری جگہ منتقل کریں تاہم ہماری ایک بھی نہ سنی گئی اب ہم سرکار سے التماس کرتے ہیں کہ ان گندگی و غلاظت کے ڈھیروں سے اُٹھنے والی بدبو پر قابو پانے کیلئے ادویات کا چھڑکائو روزانہ کرایا جائے تاکہ لوگوں کو درپیش مشکلات سے نجات مل سکے ۔ انہوںنے کہا کہ بدبو سے لوگ کئی طرح کی بیماریوں میں مبتلاء ہوچکے ہیں جبکہ ہمارے یہاں اب کوئی بھی مہمان ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں ٹھہر سکتا کیوںکہ بدبو کی وجہ سے ان کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے اور وہ چلے جاتے ہیں ۔ اس طرح سے آس پاس کے علاقوں کا سماجی رشتہ بھی اب ختم ہوگیا ہے ۔