سرینگر //بے روز گار نوجوان کو روز گار فراہم کرنے کیلئے سال 2004سے فیش کلچر کو پرائیوٹ سیکٹر میں لایا گیا کی بات کرتے ہوئے محکمہ فشریز کے ڈائریکٹر بشیر احمد بٹ نے کہا کہ سال 2004سے کشمیر میں 66ٹروٹ یونٹ قائم کئے گئے ہیں ۔سی این آئی کے مطابق وسطی ضلع گاندربل کا دورہ کرنے کے دوران سنیچروار ڈائریکٹر فشریز بشیر احمد بٹ نے کارپ مچھلی یونٹ کا افتتا ح کیا ۔ اس موقعہ پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر موصوف نے کہا کہ محکمہ فشریز نے سال 2004سے فیش کلچر کو پروائیوٹ سیکٹر میںلانے کی شروعات کی ہے تاکہ یہاں کے جو بے روز گار نوجوان ہے انہیں روز گار فراہم ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ آج گاندربل کی سرزمین پر قدم رکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فیش کلچر کو پرائیوٹ سیکٹر میںلانے کا مقصد یہی ہے کہ بے روزگار نوجوانوں کو روز گار فراہم ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس سال کی بات کی جائے تو محکمہ نے 16ٹروٹ کے فارم قائم کئے جبکہ کارپ کلچر میں چھ فارم قائم کئے گئے ۔ انہوں نے کہا کہ سال 2004سے ہم نے آج تک 66ٹروٹ یونٹس قائم کئے جبکہ کارپ میں آج کے یونٹ کو لیکر 52یونٹس قائم ہوئے ۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ کی ان اسکیموں سے فائدہ اٹھانے والے افراد جن کو ہم اس فیش کلچر کے زمرے میں لا رہے ہیں ان کی مالی امداد کی جاتی ہے ۔ جبکہ اسی طرح سے فارم کی تعمیر کیلئے ان کو مالی معاونت کی جاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام افراد کو وہ تمام آلات فراہم کئے گئے ہیں جو ان کو یونٹس سنبھالنے کیلئے کام آتے ہیں جبکہ ان کیلئے ٹریننگ پروگرام بھی منعقد ہوتے ہیں جس دوران انہیں جدید ٹیکنالوجی کے بارے میںجانکاری دی جاتی ہے ۔ تاکہ یہ انہیں اپنے یونٹوں پر کسی بھی دقت کا سامنا نہ کرنا پڑے ۔ محکمہ کے ڈائریکٹر نے مزید کہا کہ مچھلیوں کیلئے درجہ حرارت اور انہیں آکسیجن کے بارے میں مکمل جانکاری دی جاتی ہے تاکہ انہیں کسی بھی قسم کا نقصان نہ ہو ۔ آخر پر انہوں نے کہا کہ جموں کشمیر میں انڈسٹریز نہ ہونے کے نتیجے میں پڑھے لکھے نوجوانو ں کو روزگار کے حوالہ سے کافی مشکلا ت کا سامنا ہے اس کیلئے محکمہ فشریز نے کئی ایسی اسکیمیں رائج کرائی ہے تاکہ نوجوانوں کو روزگار مہیا ہو سکے اور ہم بے روز گار نوجوانوں سے کہتے ہیں کہ وہ ہمارے پاس آئیں تاکہ ان کی رہنمائی ہو سکے اور انہیں روز گار کے مواقع فراہم ہو سکے ۔










