سری نگر//جموں و کشمیر پیپلز کانفرس کے صدر سجاد غی لون نے جموں و کشمیر کے سیاسی لیڈروں کو حزب اختلاف کی کئی جماعتوں کی اس میٹنگ میں شرکت کرنے پر ہدف تنقید بنایا جس میں دفعہ 370 کی تنیسخ کا تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ کانگریس صدر سونیا گاندھی نے گزشتہ روز ایک آن لائن میٹنگ طلب کی تھی جس میں حزب اختلاف کی 19 جماعتوں نے شرکت کی جن میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی بھی شامل تھی۔میٹنگ کے بعد ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا جس میں جموں و کشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی اور سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔سجاد غنی لون نے اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں اس میٹنگ میں شرکت کرنے والے جموں و کشمیر کے سیاسی لیڈروں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ جموں و کشمیر کے لیڈروں کو ایسے کسی بھی عمل کا حصہ نہیں بننا چاہئے جس میں دفعہ 370 کا ذکر نہ چھیڑنا ہو۔ان کا اپنے ایک ٹویٹ میں کہنا تھا: ‘جموں و کشمیر کے لیڈران ایسے کسی عمل کا حصہ کیوں بنتے ہیں جس میں دفعہ 370 کا ذکر نہ چھیڑنا ہو۔ اس طرح آپ ایک ایسی قومی اپوزیشن کا حصہ بن جاتے ہیں جو دفعہ 370 کو چھوڑتی ہے اور آپ حکمران جماعت کو پریشان کرتے ہیں جو رواداری کے لئے نہیں جانی جاتی ہے، اس طرح آپ ریاستی درجے کی بحالی کو بھی خطرے میں ڈالتے ہو۔موصوف نے کہا کہ میں حیران ہوں کہ جموں و کشمیر کے لیڈران اس میٹنگ میں اپنی شرکت کا کیا جواز پیش کریں گے۔انہوں نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا: ‘اپوزیشن جماعتوں کی میٹنگ میں دفعہ 370 کا کوئی تذکرہ نہیں ہوا۔ میں محو حیرت ہوں کہ جموں و کشمیر کے لیڈران اس میٹنگ میں اپنی شرکت کا کیا جواز پیش کریں گے اگر وہ اس میں شامل لیڈروں کو دفعہ 370 کے بارے میں بات کرنے پر راضی نہ کر سکے۔ بی جے پی کا دفعہ 370 مخالف موقف واضح ہے اپوزیشن کا اس کے متعلق کیا موقف ہے۔ان کا ایک اور ٹویٹ میں کہنا تھا: ‘خدا کے لئے، ہم کم سے کم یہ عہد کریں کہ اگر ہم سہولیت کار نہیں بن سکتے تو رکاوٹ بھی نہیں بنیں گے جموں و کشمیر کے لیڈروں کو چاہئے کہ وہ قومی اپوزیشن کی جماعتوں کو دفعہ 370 کی بحالی کے مطالبے کو تسلیم کرائیں تاکہ کوئی امید پیدا ہو سکے۔










