shahid iqbal choudhary

محکمہ قبائلی امور نے 15 کروڑ روپے کے اخراجات کیساتھ 16دودھ گاؤں ، MCPs کی منظوری دی

سرینگر //محکمہ قبائلی امور نے قبائلی دیہات میں دودھ کے گاؤں ، ملک چِلنگ پلانٹس ( ایم سی پی ) ، دودھ کی مصنوعات کی پروسیسنگ اور دیگر سہولیات کے قیام کا منصوبہ شروع کیا ہے جس کا مقصد دودھ کی پیداوار اور سپلائی چین کو مدد فراہم کرنا اور روز گار کے مواقع فراہم کرنا ہے ۔ اس منصوبے کا مقصد 1500 سے زائد قبائلی نوجوانوں کو روز گار فراہم کرنا اور پہلے مرحلے میں انفراسٹرکچر کی تخلیق ہے جس کے بعد تمام اضلاع کی توسیع کی جائے گی ۔ دودھ گاؤں کے قیام کیلئے مرحلہ اول میں 16 دیہات بنائے گئے ہیں جبکہ1500 لاکھ روپے کی مجموعی لاگت سے جاری 2 پروجیکٹ تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں ۔ یو ٹی کیپکس بجٹ کے تحت منظور شدہ 6 نئے دودھ گاؤں جن میں شوپیاں کے دو گاؤں ، پلوامہ ، راجوری ، گاندر بل اور پونچھ میں ایک ایک گاؤں شامل ہے ۔ دودھ کے دیہات کو مویشیوں کی اپ گریڈیشن ، مشینری ، آلات اور مارکیٹ کے رابطوں کیلئے 80.00 لاکھ روپے مختص کئے گئے ہیں ۔ قبائلی فلاح و بہبود کیلئے مرکزی سپانسر سکیم کے تحت جن دیہات کی80.00 لاکھ روپے فی گاؤں کی مالی اعانت کی جا رہی ہے ان میں راجوری ، اننت ناگ ، پونچھ ، جموں ، شوپیاں ، ریاسی ، کپواڑہ اور بڈگام کے آٹھ گاؤں شامل ہیں ۔پہلے منظور شدہ پروجیکٹوں کی تکمیل کیلئے 90 لاکھ روپے کی رقم پلوامہ میں سنگیر وانی اور راجوری میں ارگی کیلئے مختص کی گئی ہے ۔ شوپیاں اور گاندر بل کیلئے 100.00 لاکھ روپے کی لاگت سے قائم کئے جانے والے دو دودھ چِلنگ پلانٹس بھی منظور کئے گئے ہیں ۔ محکمہ نے سکلنگ ، لائیو سٹاک پروڈکٹ منیجمنٹ ، سپلائی چین انفراسٹریکچر اور دیگر سہولیات کی فراہمی کیلئے دودھ سپلائی چین کے امکانات والے دیہات کی شناخت کا عمل بھی شروع کیا ہے ۔ اودھمپور، سانبہ ، کٹھوعہ ، ڈوڈہ ، کشتواڑ ، رام بن ، بڈگام ، بارہمولہ ، کپواڑہ اور بانڈی پورہ جیسے اضلاع میں قابل ذکر قبائلی آبادی والے علاقوں کو مرحلہ وار دودھ گاؤں کے قیام کیلئے نقشہ بنایا جا رہا ہے ۔ ہنر مندی کی ترقی اور مارکیٹ کے روابط کیلئے علیحدہ رقم بھی مختص کی گئی ہے ۔ محکمہ قبائلی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سروے ، تجزیہ ، تشخیص ، ڈی پی آر کی تشکیل ، ہُنر مندی اور دیگر پہلوؤں کیلئے پہلی بار ریسرچ گرانٹ بھی فراہم کر رہا ہے ۔ قبائلی امور کے محکمہ کی طرف سے منظور شدہ تمام دودھ گاؤں صد فیصد سرکاری فنڈنگ سے قائم کئے جا رہے ہیں اس دوران محکمہ 100 ملک ولیجز اور کولنگ پلانٹس کے قیام کیلئے بنکوں اور مالیاتی اداروں کے ساتھ فعال طور پر تعاون کر رہا ہے جس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ساتھ سکیم کیلئے سبسڈی اور سود کی امداد دریافت کی جا رہا ہے ۔