سرینگر//بھارت نے پاکستانی اسمبلی میں منظور کردہ اس بل پر شدید نکتہ چینی کی ہے، جس میں کلبھوشن جادھو کو اپنے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سول عدالتوں سے رجوع کرنے کی اجازت دیے جانے کی بات کہی گئی ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ اس بل میں میونسپل عدالتوں کو بھی یہ فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے کہ آخر ریاست نے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنے فرائض پورے کیے یا نہیں اور یہ درست نہیں ہے۔ مانیٹرنگ کے مطابق گزشتہ ہفتے پاکستانی قومی اسمبلی نے اس سلسلے میں جو بل منظور کیا تھا، اس کے تحت بیرونی ممالک کے شہریوں کو، خاص طور پر، جن کے کیس کا تعلق بین الاقوامی عدالت انصاف سے ہو، انہیں یہ حق دے دینے کی بات کہی گئی ہے کہ وہ اپنے خلاف فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سول عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔تاہم ہندوستان نے اس بل کی بعض شقوں پر یہ کہہ کر اعتراض کیا ہے کہ اس میں بعض خامیاں ہیں، جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے۔ نئی دہلی میں وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم بگچی کا کہنا تھا کہ پاکستان نے بل میں میونسپل عدالت کو بھی یہ فیصلہ کرنے کی اجازت دی ہے کہ کلبھوشن جادھو کو قونصلر رسائی فراہم نہ کرنے میں ریاست نے تعصب سے کام لیا تھا یا نہیں۔ وزارت خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ”ریویو اور ری کنسڈریشن بل 2020 ، جو پاکستانی قومی اسبملی نے منظور کیا ہے، اس سے وہ تقاضے پورے نہیں ہوتے، جنہیں بین الاقوامی عدالت انصاف ( آئی سی جے) نے کلبھوشن کے کیس پر نظر ثانی کے لیے لازم قرار دیا تھا۔”ارندم بگچی کا کہنا تھا، ”یہ واضح طور پر بنیادی اصول کی خلاف ورزی ہے کیونکہ میونسپل عدالتیں اس طرح کے معاملات میں فیصلے کی مجاز نہیں ہوتیں کہ آیا کسی ریاست نے بین الاقوامی قانون کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کی ہیں یا نہیں۔ یہی نہیں، بلکہ یہ تو ایسے ہوا، جیسے میونسپل کورٹ میں آئی سی جے کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہو اور اسے اس پر نظر ثانی کی اجازت دی گئی ہو۔”ان کا مزید کہنا تھا، ”یہ بل اپنی تمام خامیوں کے ساتھ سابقہ آرڈیننس کو ہی قانون کی شکل دیتا ہے۔ یہ قانون یادیو کے کیس کا موثر جائزہ لینے اور اس پر غور و فکر کرنے کے لیے بین الاقوامی عدالت انصاف کے فیصلے کے تقاضوں کے تحت کوئی میکنزم تشکیل نہیں دیتا ہے۔”عالمی عدالت انصاف نے اپنے فیصلے میں واضح طور پر کہا تھا کہ چونکہ پاکستان کلبھوشن کو قونصلر رسائی مہیا کرنے میں ناکام رہا ہے، اسی لیے وہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا۔ اسی فیصلے کے تناظر میں قونصلر رسائی مہیا کرنے کے مقصد سے پاکستان نے ایک آرڈینینس کی منطوری دی تھی۔پاکستان کی قومی اسمبلی نے گزشتہ ہفتے ایک بل منظور کیا تھا، جس میں بیرونی ممالک کے شہریوں کو، خاص طور پر جن کے کیس کا تعلق بین الاقوامی فوجداری عدالت سے ہو، انہیں یہ حق دے دیا گیا ہے کہ وہ اپنے خلاف فیصلے پر نظر ثانی کے لیے سول عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔اس بل کی روشنی میں کلبھوشن بینالاقوامی فوجداری عدالت کے تقاضوں کے مطابق فوجی عدالت کے فیصلے کو ہائی کورٹ اور عدالت عظمیٰ میں چیلنج کر سکیں گے۔ اس کے تحت انہیں ضرورت پڑنے پر قونصلر رسائی بھی حاصل ہو سکتی ہے تاہم اس بارے میں ذیلی عدالتیں بھی فیصلہ سنانے کی مجاز ہوں گی۔










