سرینگر /13فروری/اے پی آئی/ جموں وکشمیر سیول سروس کیڈر کو اروناچل پردیش،گوا،میزورم کے ساتھ جوڑنے کے سلسلے میں مرکزی حکومت نے ری آرگنائزیشن ترمیمی بل لوگ سبھا میں پیش کی امورداخلہ کے وزیرمملکت نے بل پیش کرتے وقت کہاکہ جموں کشمیرکا خصوصی درجہ واپس لینے کے بعد سرکار نے جموں کشمیرکے لئے کئی طرح کے اقدامات اٹھائے ہیں جن سے جموں وکشمیرکو ترقی کے منزلوں پرلے جایاجا سکتاہے اور خصوصی درجہ واپس لینے کے بعد170کے قریب مرکزی قوانین کولاگو کیاگیاہے۔کانگریس کے لیڈر نے بل کی مخالفت کرے ہوئے کہاکہ ارڈینس کی جگہ بل لانا اس بات کی عکاسی ہے کہ جموں وکشمیرکا خصوصی درجہ واپس لینے کے لئے سرکار نے پہلے کوئی تیاری نہیں کی تھی اور خصوصی درجہ واپس لینے کے سلسلے میں سرکار کی جانب سے جودعوے اور وعدے کئے گئے وہ کھوکھلے ثابت ہوئیں۔ جموں وکشمیرایک حساس علاقہ ہے اور مرکزی حکومت کافیصلہ حقائق پرمبنی نہیں ہے۔اے پی آ ئی کے مطابق امورداخلہ کے وزیرمملکت نے سیول سروس کیڈر جموں کشمیرکے لئے جوارڈیننس پاس کیاگیاتھا ا سکی جگہ ری آرگنائزیشن ترمیمی بل ایوان میں پیش کی۔اس موقعے پر امورداخلہ کے وزیرمملکت جی کشن ریڈی نے ممبروں پرزور دیاکہ وہ بل کی حمایت کرکے اس سے پاس کرانے میں اپنارول اد اکرے بل پیش کرتے وقت انہوں نے کہاکہ جموں کشمیرکا خصوصی درجہ واپس لینے کے بعد جموں وکشمیرمیں مختلف منصوبوں کو ہاتھ میں لیاگیاجن پر سرعت کے ساتھ کام جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت نے 170کے قریب قوانین کو جموں کشمیرمیں لاگو کرائے اور ایسا 370کے واپس لینے کے بعد کیاگیاہے جسکے تحت جموں وکشمیرکو خصوصی درجہ حاصل تھا۔امورداخلہ کے وزیرمملکت نے کہاکہ جموں کشمیرکوترقی کی منزلوں پر لے جانے کے لئے مختلف پروجیکٹوں اور اسکیمیوں کوہاتھ میں لیاگیاہے جن پرکام جاری ہے۔اس موقعے پربل کی مخالفت کرتے ہوئے کانگریس کے لیڈراور ممبر پارلیمنٹ انیل رنجن چودھر نے ایوان میں حکومت سے پوچھاکی ارڈیننس کی جگہ بل لانے کی کیاضرورت پڑی اور ایسا تب ہی ہوتا ہے جب حالات موفق نہ ہو۔انہو ں نے کہاکہ سرکار نے پہلے ارڈیننس لاکر پارلیمانی جمہوریت کوبائی پاس کردیااور اب بل لاکر اپنے اختیارات کومرکوز کراناچاہتی ہے۔انہوں نے کہاکہ 370کو ہٹانے کے بعد جموں وکشمیرکے لوگوں کوجوخواب دکھائے گے تھے انہیں شرمندہ تعبیر نہ کیاجارہاہے نہ تو تعلیم یافتہ بے روزگارں کوروز گار فراہم کیاجائے ہے اور نہ روز گا رکے وسائل برائے کار لائے جارہے ہیں۔انہوں ے کہاکہ ارڈیننس نافذ کرنااور بل پاس کرنا اس بات کی غماز ہے کہ دفعہ 370کو منسوخ کرانے کے لئے مرکزی حکومت نے پہلے سے کوئی تیاری نہیں کی تھی اور تمام تر فیصلے جلدبازی میں لئے جارہے ہے۔انہوں نے جموں وکشمیرکو حساس علاقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر میں مواصلاتی نظام کئی ماہ کے بعد بحال کیاگیا اور ڈیڑھ سال کے بعد جموں و کشمیرکے لوگوں کوفور جی انٹرنیٹ سہولیت فراہم کرنا اس بات کی عکاسی ہے کہ سرکار جموں و کشمیرکے حوالے سے ہرایک قدم اور ہرایک فیصلہ جلدبازی میں لے رہی ے جسکے مثبت نتائج بر آمد نہیں ہورہے ہیں اس سے پہلے بھی نیشنل کانفرنس کے ممبر پارلیمنٹ ریٹائرڈ جستس حسنین نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے پانچ اگست 2019کو مرکزی حکومت کے فیصلے کو غیرآ ئینی غیراخلاقی یرجمہوری قرار دیاتھا۔










