بڈگام کے 9 ڈی ڈی سی ممبران کا احتجاج، چیئرمین کا از سر نو انتخاب کرانے کا مطالبہ


سری نگر، 9 فروری (یو این آئی) وسطی ضلع بڈگام سے وابستہ 9 ڈی ڈی سی ممبران نے منگل کو نیشنل کانفرنس کے پارٹی ہیڈکوارٹرز پر آکر جنرل سکریٹری علی محمد ساگر کے ساتھ ملاقات کی اور انہیں ڈی ڈی سی چیئرمین انتخاب کے دوران مبینہ دھونس و دباﺅ کی پالیسی اور نتائج کو تبدیل کرنے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔
ساگر نے اس موقعے پر الزام لگایا کہ نئی دلی یہاں موقعہ پرست سیاست کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے جو انتہائی تشویشناک صورتحال ہے۔ جیتی ہوئی جماعتوں کو منصوبہ بند طریقے سے ہرایا جا رہا ہے اور شکست خوردہ پارٹیوں کی جیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم نے ڈی ڈی سی چیئرمین الیکشن کے بارے میں چیف الیکشن کمشنر کو اپنے خدشات سے پہلے ہی آگاہ کیا تھا لیکن یہ سب کچھ ان سنا کردیا گیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ اگر انتخابات پارٹی بنیادوں پر ہوئے تو پھر چیئرمینوں کے انتخاب کے لئے سیکرٹ بیلٹ ووٹنگ کیوں رکھی گئی؟ صاف ظاہر ہے کہ حکومت کے ارادے نیک نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ضلع ترقیاتی کونسل چیئرمینوں کے انتخابات کے دوران جمہوریت کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں۔ واضح اکثریت ہونے کے باوجود بھی نیشنل کانفرنس کو ہرایا جارہا ہے۔
دریں اثناء 9 ڈی ڈی سی ممبران نے ذرائع ابلاغ کے سامنے احتجاج کیا گیا اور دوبارہ ووٹنگ کا مطالبہ کیا۔ ڈی ڈی سی ممبران کی قیادت کر رہے حاجی عبدلاحد ڈار نے اس موقعے پر کہا کہ ممبران کو ڈی سی آفس میں شروع سے ہی ڈرایا اور دھمکایا گیا اور کسی کو بھی آواز اٹھانے کی صورت میں بند کرنے کی دھمکی دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس کے 8 ممبران اور اتحاد کے ایک ممبر کے باوجود بھی ہمیں 7 ہی ووٹ ملے اور ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں جتلا رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ کراس ووٹنگ ہوئی ہو لیکن جب قرعہ اندازی کی گئی اُس وقت قوائد و ضوابط کو بالائے طاق رکھا گیا۔
انہوں نے کہا کہ قرعہ اندازی کے لئے جس ٹیبل کے پاس پرچیاں بنائیں گئیں، اُسی ٹیبل کے ساتھ کھڑے ایک کلرک کے ذریعے قرعہ اندازی کے لئے پرچی اٹھائی گئی۔ (جس کا ویڈیو بھی ہمارے پاس موجود ہے۔) قوائد و ضوابط کے تحت باہر سے کسی تیسرے شخص کو لاکر پرچی کا انتخاب کرنے کے لئے کہا جاتا لیکن یہاں ایک ایسے شخص کے ذریعے پرچی اٹھائی گئی جس نے پہلے ہی دونوں پرچیوں پر نام تحریر ہوتے ہوئے دیکھے تھے۔ یہی ایک عمل اس پورے انتخاب کو مشکوک بنا ڈالتا ہے اور صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ایک فکسڈ میچ تھا۔
انہوں نے مطالبہ کیا گیا کہ چیئرمین کا انتخاب نئے سرے سے صاف و شفاف طریقے سے ہونا چاہئے اور اس کے لئے نئے سرے سے ووٹنگ کی جانی چاہئے اور اگر ووٹنگ کرانا ممکن نہیں تو پھر قرعہ اندازی دوبارہ ضرور ہونی چاہئے۔
حاجی عبدالاحد ڈار کے ساتھ جو ڈی ڈی سی ممبران تھے اُن میں نذیر احمد جہرا (ڈی ڈی سی سرسیار)، بشیر احمد بٹ (ڈی ڈی سی خانصاحب)، ریاض احمد راتھر(ڈی ڈی سی نارہ بل)، سائکہ اختر (ڈی ڈی سی پارنیوہ)، افروزہ اختر (ڈی ڈی سی ناگام)، انشہ (ڈی ڈی سی چاڈورہ)، بشیر احمد ڈار (ڈی ڈی سی پکھر پورہ) اور سائمہ جان (ڈی ڈی سی باغات کنی پورہ ) شامل ہیں۔